fbpx
News

وہ لمحہ جب ڈریوڈ نے شعیب کو آفریدی کی سائیڈ لینے پر ذلیل کر دیا

دوستو آج ہم آپ کو انڈین سائیڈ کے سب سے عظیم کھلاڑی کے کچھ ایسے سیاہ پہلو دکھانے کی کوشش کریں گے جس سے آپ کو پتہ چلے گا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جوکہ اتنی زیادہ عزت اور دولت ملنے کے باوجود بھی اپنی فطرت دکھانے سے باز نہیں آتے ہیں – یہ لوگ سب کچھ ہونے کے باوجود لوگوں میں موجود خامیاں کو تلاش کرنے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں اور آخر کر خود ہی ذلیل ہو کر بیٹھ جاتے ہیں جب ان کو کچھ ملتا نہیں ہے –

یہاں پر دوستو ہم آپ سے بات کریں تو انڈین کرکٹر راہول ڈریوڈ کی جو کہ کسی بھی تعارف کے محتاج نہیں ہیں – انڈین کرکٹ کی ہسٹری میں شاید ان جیسا اچھا کھلاڑی پیدا ہوا ہو کوہلی کو چھوڑ کر – وہ تکنیک کے لحاظ سے بہت ہی اچھے کھلاڑی تھے اور ان کو آوٹ کرنا کسی بھی بڑی مشکل سے کم نہیں ہوتا تھا – راہول ڈریوڈ ان کھلاڑیوں میں سے تھا جو کہ آسٹریلیا میں بھی جا کر بولرز کو پریشان کر کے رکھ دیتا تھا – حالانکہ ان کے بارے میں مشھور ہے کہ انڈین بیٹسمن انڈیا میں ہی زیادہ تر چلتے ہیں

مگر اس کے ساتھ ساتھ راہول ڈریوڈ میں کچھ ایسی غیر اخلاقی باتیں بھی پائی گئی ہیں اور دیکھی گئی ہیں جس کا ہونا کسی بھی لجینڈ کھلاڑی کے لیے سوائے شرمندگی کے کچھ بھی نہیں ہے – آج ہم آپ سے راہول ڈریوڈ کے 3 ایسے واقعات شیئر کریں گے جس میں آپ کو بتایا جائے گا کہ ڈریوڈ کس طرح اپنے ساتھ کمنٹری کرنے والے ساتھیوں کو ذلیل کرنے کی کوشسش کرتا ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو یہ ذلالت صرف اور صرف اس انسان کی ہوتی ہے جو اس طرح کی حرکت کرتا ہے

سب سے پہلے ہم بات کریں انڈیا کے اس میچ کی جوکہ 5 1 0 2 کا کوارٹر فائنل تھا جس میں انڈیا اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں ایک دوسرے کے مد مقابل تھیں – اس میچ میں اس وقت کمنٹری بکس میں 3 لوگ بیٹھے ہوئے تھے ایک تو ڈریوڈ خود تھا اور پھر اس کے ساتھ انگلنڈ کے سابق کپتان ناصر حسین اور پھر آسٹریلیا کا مشھور سپنر بولر شین وارن تھا –

یہاں پر ناصر حسین نے ڈریوڈ کو مخاطب کر کے بات کی کہ آپ کی ٹیم کچھ زیادہ ہی جلدی کھیل کو ختم کرنا چاہتی ہے حالانکہ اس کی ضرورت نہیں ہے جس پر ڈریوڈ نے ناصر حسین کو طنز کیا کہ یہ بہت بہتر ہے کہ وہ جلدی کر رہے ہیں ایسا نو ہو کہ وہ جلدی نہ کریں تو دوسری ٹیم جلدی کر کے ہمیں فارغ ہی کر دے – اصل میں بنگلہ دیش نے انگلینڈ کی ٹیم کو ہی ہرا کر کوارٹر فائنل کے لیے جگہ بنائی تھی –

لہذا ڈریوڈ کا یہ جواب سن کر ناصر حسین اپنا سا منہ لاکر بیٹھ گئے اور ان کے ساتھ شین وارن بھی بیٹھا ہوا تھا وہ بھی خاموش رہا اور کوئی جواب نہیں دیا – اس کے بعد 5 1 0 2 کے ہی ایک اور میچ میں شعیب اختر اور ڈریوڈ کمنٹری کر رہے تھے اور پاکستان کی ٹیم ہدف پورے کرنے کے لیے بیٹنگ کر رہی تھی مگر پاکستان کے اس مقام پر  3 0 1 رنز تھے اور اس کے 5 کھلاڑی آوٹ ہو چکے تھے

مزید پڑھیں: میرے لیے ویرات کوہلی کو آوٹ کرنا منٹوں کا کام ہوتا -وسیم اکرم

جس پر شعیب اختر نے کمنٹری کے دوران کہا کہ اب سارے پاکستان کی امیدیں اب صرف اور سرف شاہد آفریدی پر ہیں مگر اس جگہ پر آ کر پاکستان کا جیتنا بہت مشکل لگ رہا ہے – جس پر ڈریوڈ نے پھر وہی طنزیہ بات کی اور کہا کہ اگر یہ صورتحال ہے کہ ساری کی ساری امیدیں آفریدی پر لگا دی گئی ہیں تو پھر الله خیر کرے اور پھر واقعی بہت ہی بری حالت ہے پاکستان کرکٹ ٹیم کہ اگر امیدیں شاہد آفریدی پر ٹکی ہیں

اس پر شعیب اختر نے صرف ایک مسکراھٹ کا تبادلہ کی اور پھر خاموش ہو گئے کیونکہ جس لیول پر وہ دونوں بیٹھے ہوئےتھے وہاں پر کسی بھی ایسی چیز کا ہونا بلکل بھی مناسب لگتا ہے کیونکہ آپ ایک پروفیشنل زندگی میں آ جاتے ہیں  اور آپ کو بہت سی چیزوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے مگر ڈریوڈ اس سوچ سے بلکل ہی عاری لگتا ہے

Leave a Comment