fbpx
News ODI Cricket T20I Cricket Test Cricket

ہم ہی تھے وہ جنہوں نے بنگلہ دیش کو ٹیسٹ سٹیٹس دلوانا میں اھم کردار ادا کیا

دوستو بات جب ہوتی ہے سچ اور حق  کی تو اس وقت آپ کو کرکٹ کی دنیا میں شعیب اختر سے زیادہ جذباتی آدمی کوئی نہیں ملے گا اور وہ ہمیشہ سچ بات ہی کرے گے چاہیے اس کو اس کی کتنی بھی سزا مل جائے – آپ کو سچن ٹنڈولکر والا واقعہ تو یاد ہو گا جس میں شعیب اختر نے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ سچن ٹنڈولکر شعیب اختر کا سامنا کرنے سے ڈرتا تھا

اس بات پر پوری انڈین قوم شعیب اختر نے خلاف کھڑی ہو گی یہاں تک انڈیا میں ہی ایک انٹرویو کے دوران شعیب اختر سے یہ سوال کیا گیا یہ اس وقت کی بات ہے جب شعیب اختر اپنی کتاب میں یہ سب کچھ لکھنے کے بعد پھر انڈیا میں ہی موجود تھے اور کسی سپورٹ کے چینل میں کام کر رہے تھے – تو اس اینکر نے شعیب سے ایک سوال کیا

اس نے کہا کہ آپ نے سچن کے خلاف ایسی بات لکھ دی کہ وہ آپ سے ڈرتے تھے اور اس سے پوری انڈین قوم کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور یہاں سچن کو لوگ بگھوان مانتے ہیں – اس پر شعیب اختر نے کہا کہ میں نے وہ لکھا ہے جو مجھے ٹھیک لگا اور وہ میرے لیے بگھوان نہیں ہے جس لوگوں کے لیے وہ بھگوان ہے میں اس کا کچھ نہیں کر سکتا ہے – مجھے جو ٹھیک لگا میں نے وہ لکھ دیا ہے

بلکل ایسے ہی ایک انٹرویو کے دوران جس میں ڈاکٹر نعمان اور راشد لطیف بھی بیٹھے ہوئے تھے بنگلہ دیش کے رویے پر بات ہو رہی تھی کہ وہ پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کیوں نہیں کھیلنے آ رہے ہیں – ڈاکٹر نعمان نے بتایا کہ ہم نے بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کو یہاں تک سپورٹ کیا ہے کہ ہم کلب لیول تک اپنے لڑکے بنگلہ دیش میں بھیجتے تھے تاکہ وہ وہاں پر جا کر ان لوگوں کو کرکٹ سکھائیں

جب اس  پوانٹ پر شعیب اختر سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ہم ہی وہ قوم ہیں کہ جنہوں نے بنگلہ دیش کو ٹیسٹ سٹیٹس دلوایا بلکہ انھوں نے کچھ اس طرح کے الفاظ کہے کہ ہم ہی ہیں جنہوں نے بنگلہ دیش کو اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر ٹیسٹ میچز میں ڈلوایا، کھلوایا، پہنچوایا – مطلب آج اگر ہم تھوڑی مصیبت میں تو پھر بنگلہ دیش کو ہمارے ساتھ ایسے نہیں کرنا چاہے کہ وہ سیکورٹی رسک کا بہانہ بنا کر پاکستان میں نہ آئیں

انھوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کو اپنے وہ حالات کو ضرور یاد کرنا چاہیے جب وہ کچھ بھی نہیں تھے اور ہم ان کی سپورٹ کرنے کے لیے پیش پیش رہتے تھے اور ان کی ہر جگہ پر مدد کرنے کے لیے تیار رہتے تھے – آپ کو یاد ہو گا کہ ١٩٩٩ کے ورلڈ کپ میں پاکستان ہارٹ فیورٹ ٹیم تھی کہ یہ ورلڈ کو جیت جائے گی اور اس وقت پاکستان بنگلہ دیش سے میچ ہار گیا تھا

اس وقت آئی سی سی کا یہ رول تھا کہ اگر کوئی بیسٹ سٹیٹس نہ رکھنے والی ٹیم کسی ایسی ٹیم کو ورلڈ کپ میں میچ ہرا دے جوکہ ورلڈ کپ جیتنے کے لیے فیورٹ ہو تو اس ٹیم کو ٹیسٹ سٹیٹس مل جاتا ہے لہذا ہم نے بنگلہ دیش کی اس حد تک مدد کی مگر آج بنگلدیش انڈیا کے پیچھے لگا ہوا اور ہمارا کوئی بھی احسان اسے یاد نہیں ہے

مگر اس کے ساتھ ساتھ شعیب اختر نے یہ بھی کہا کہ بنگلہ دیشی عوام پاکستانی کرکٹ ٹیم سے بہت محبت کرتی ہے اور وہ ہمار دل سے احترام کرتی ہے مگر اس کی حکومت میں شاید کسی لیول پر کوئی مسلہ ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی نیّت پاکستان سے ٹھیک نہیں کرتی ہے اور یہی وجہ حیا کہ وہ اپنی ٹیم پاکستان میں نہیں بھیج رہے ہیں

یہاں آپ کو ہم ایک اور بات بتا دیں کہ اگر بنگلدیش اپنی ٹیم ٹیسٹ میچ کے لیے پاکستان میں نہیں بھیجتی ہے تو اس طرح پاکستان کو اس میچ کے پائنٹ مل جائے گے اور اس طرح آخر کار اس کا نقصان بنگلہ دیش کو ہی ہو گا

مزید پڑھیں: دنیا میں موجود وہ بولر جنہوں نے سب سے زیادہ بیٹسمنوں کو کلین بولڈ کیا

مگر سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ پوری دنیا سے بڑی بڑی ٹیموں نے بھی پاکستان آنے کی رضا مندی ظاہر کر دی ہے اور انشاء الله جسے ہی کرونا کی وبا کم ہوتی ہے پاکستان میں بہت جلد آسٹریلیا اور انگلینڈ جیسی ٹیموں کے کھلاڑی نظر آئیں گے

مزید اس بات کو کلیر کرنے کے لیے آپ نیچے دی ویڈیو کو بھی دیکھ سکتے ہیں – شکریہ

 

Leave a Comment