fbpx
News

پاکستانیوں کے ساتھ کبھی دوستی نہ کرنا ، فائدہ مند نہیں ہوتی – انگلش کرکٹر پلنکٹ

پاکستانیوں کے ساتھ دوستی فائدے مند نہیں ہوتی ہے جی ہاں یہ کہنا ہے سابق انگلش کرکٹر لیام پلنکٹ کا جوکہ پاکستان میں آ کر کرکٹ بھی کھیل چکے اور انگلش ٹیم کے مایہ نازآل رونٹر  بھی ہیں – ایک انٹرویو کے دوران لیام پلنکٹ اپنا ایک کرکٹ کا تجربہ شیئر کر رہے تھے اور وہ بتا رہے تھے کہ پاکستان کی مٹی کس طرح سونا اگلتی ہے جی ہاں وہ بات کر رہے تھے پاکستان کے اندر آئے دن پیدا ہونے والے فاسٹ بولرز کی ان کا کہنا تھا کہ بہت کم ریسورسز ہونے کے باوجود پاکستانی ٹیم اتنے اچھے فاسٹ بولر کیسے پیدا کر لیتی ہے اس ان کی سمجھ سے بالاتر ہے

اسی انٹرویو کے دوران انہوں نے شعیب اختر کے ساتھ ایک چونکا دینے والے واقعہ شیئر کیا کہ جب وہ بیٹنگ کے لیے آئے تو انہوں نے کیا دیکھا کہ ان کا استقبال کرنے کے لیے شعیب اختر اپنے ہاتھ میں بال لیے کھڑے تھے – یہ بات پاکستان کے اندر لاہور میں قزافی اسٹیڈیم کی ہے اور یہ لیام پلنکٹ کا پہلا ٹیسٹ میچ تھا اور یقینا اس کے لیے بہت اہمیت کا حامل میچ تھا  -انہوں نے مزید کہا کہ وہ پہلی دفعہ شعیب اکٹر کو نہیں کھیل رہے تھے کیونکہ وہ ون ڈے کرکٹ میں بھی شعیب اختر کا سامنا کر چکے تھے مگر ٹیسٹ میچ میں پلنکٹ شعیب اختر کا فرسٹ ٹائم سامنا کر رہے تھے

پلنکٹ نے یہاں پر اپنا کونٹی کرکٹ کا تجربہ بھی شیئر کیا کہ وہ کسی طرح انکی شعیب اختر کے ساتھ اتنی زیادہ جان پہچان بھی تھی – پلنکٹ نے کہا کہ وہ کونٹی کرکٹ میں شعیب اختر کے لیے لیگ سلپ میں فیلڈنگ بھی کیا کرتے تھے اور وہ اس لیے جانتے تھے کہ شعیب اختر کس قدر فاسٹ بولر تھے – پلنکٹ نے بتایا کہ شعیب اختر اس پہلے میچ میں اس کے پاس آیا اور پلنکٹ کو دیکھ کر شعیب اختر نے کہا میں آج تم کو مار دوں گا اور یہ کہنے کے ساتھ ہی شعیب اختر نے مسکرانا شروع کر دیا

لیام پلنکٹ کہتا ہے کہ اس کے بعد پھر جب شعیب اختر نے جس طرح کی بولنگ کروائی وہ واقعی بہت خطرناک تھی – پلنکٹ کہتے ہیں ہم دونوں بہت اچھے دوست بھی تھے مگر مجھے اس دن اس چیز کا احساس ہوا کہ پاکستانیوں کے ساتھ دوستی کھیل کے میدان میں کوئی معنی نہیں رکھتی ہے وہ اس وقت سب کچھ بھول جاتے ہیں اور وہ اس وقت صرف اپنے اس ٹارگٹ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں جو ان کے سامنے بیٹ پکڑ کر کھیل رہا ہوتا ہے -اور پلنکٹ نے مسکراتے ہوئے کہا لہذا پاکستانیوں کے ساتھ دوستی کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے

لیام پلنکٹ اس واقعہ کو یاد کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ میں اس کو ایسے ہی یاد کر سکتا ہوں جیسے یہ کہ کل کا واقعہ ہے – لیام پلنکٹ کہتے ہیں کہ میں اپنے ہاتھ میں بلا لیے تیار بیٹھا تھا اور اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا مگر جب میں نے ٹی وی سکرین پر دیکھا کہ ایک بولر 6 9 اور 7 9 کی سپیڈ سے بال کر رہا ہے تو یہ دیکھ کر مجھے خوف اتا تھا – پلنکٹ مزید کہتا ہے اسی دوران اشلے  کی وکٹ اڑ گئی اور اب میری باری تھی اور پھر کچھ دیر کے بعد میں بھی اسی پچ پر کھڑا تھا جو میں ٹی وی پر دیکھ رہا تھا

مزید پڑھیں: میں نہیں سمجھتا کہ نسیم شاہ پاکستان کو کوئی ٹیسٹ میچ جتوا سکتا ہے

پلنکٹ کہتا ہے کہ میرے ساتھ پال کولنگووڈ تھا مگر اس نے بھی میری کوئی خاص مدد نہیں کی کہ اس بولر کو کس طرح کھیلا جائے – آخر کار اس میچ میں پلنکٹ نے ٹوٹل 9 رنز بنائے اور اس کے بدلے اس نے 1 5 گیندوں کا سامنا کیا جو کہ حقیقت میں ایک خاص بات تھی – کیونکہ ان دوں میں شعیب اختر کی گیند کو روکنا بھی بہت بڑی بات تھی –

Leave a Comment