سچن ٹنڈولکر اور ہوٹل ملازم کی کہانی – ٹنڈولکرنےدُنیاکوحیران کردیا

کرکٹ کسی مذہب، بارڈر، امیری یاغریبی کی محتاج نہیں ہوتی اور کرکٹرز اپنے بڑے دل کی وجہ سے کافی زیادہ مشہور ہیں۔

ایسا ہی کچھ سچن ٹنڈولکر نے اُس وقت ثابت کردیا جب انہوں نے اپنے کیرئیر سے متعلق ایک ایسا راز دُنیا کو بتایا جو ٹنڈولکر اور ایک دوسرے شخص کے علاوہ دُنیا میں کسی اور کو معلوم نہیں تھا۔

ٹنڈولکر کے اس عمل کی وجہ سے اب پوری دُنیا میں انکی تعریف کی جارہی ہے اور انکے اس اقدام کو کرکٹ حلقوں میں کافی پذیرئی کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔

لیکن انہوں نے ایسا کیا جاننے سے پہلے اگرآپ نے ابھی تک ہمارا یہ چینل سبسکرائب نہیں کیا تو چینل کو سبسکرائب کرلیں اور ساتھ موجود گھنٹی کے بٹن کو دبادیں۔

46 سالہ ٹنڈولکر نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان 2013 میں لیا جب انہوں نے کرکٹ میں 34000 سے زائد رنز بنالیے جبکہ انٹرنیشنل کرکٹ میں 100 سنچریاں بنانے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا۔

لیکن یہ سب کبھی بھی ممکن نا ہوپاتااگر چنائی کے ہوٹل کا ایک ملازم ٹنڈولکر کو انکی بیٹنگ سے متعلق ایک انتہائی اہم tip نا دیتا۔ ایسا کہنا تھا ٹنڈولکر تھا۔

پیرکے روز ٹنڈولکر نے ٹویٹر پہ ایک ٹویٹ کرتے ہوئے انٹرنیٹ صارفین کو چنائی کے ایک ہوٹل کے ایک ملازم کو ڈھونڈنے کی درخواست کی۔ ٹنڈولکر کے مطابق اس ملازم نے مجھے 2001 کے آسٹریلیا دورے کے دوران ایک ایسا مشورہ دیا جو میں اُس وقت سے لے کر اب تک کسی کو نہیں بتایا تھا۔

2001 کے آسٹریلیا دورے کے دوران ٹنڈولکر نے پہلے ٹیسٹ میچ میں سنچری سکور کی تھی لیکن انہوں نے اپنی حفاظت کے پیشِ نظر elbow gaurd پہنا ہوا تھا جسکی وجہ سے انہیں اپنے اسٹروکس کھیلنے میں کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

یہ بات اس ہوٹل کے ملازم کے علاوہ باقی لوگوں نے بھی نوٹ کی لیکن یہ وہ واحد ملازم تھا جس نے ٹنڈولکر کو اسکے بارے میں مشورہ دینے کی اجازت مانگی اور پھر بتایا کہ اسکے elbow gaurd کا سائز اسکے بازوؤں کے سائز کے بڑا ہے جسکی وجہ سے اسے کافی مشکل ہورہی ہے۔ اس لیے اُسے اپنے elbow guard کو بہتر ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہے۔

ٹنڈولکر کے مطابق میں نے یہ بات کسی کو نہیں بتائی۔ چپکے سے اپنے ڈریسنگ روم میں آیا اور پھر نوٹ کیا کہ وہ ٹھیک کہہ رہا ہے۔ اسکے بعد میں نے elbow gaurd کے سائز کو ڈیزائن کروایا جسکی وجہ سے مجھے اپنے کیرئیر میں کافی آسانی کا سامنا کرنا پڑا اور میں ایسی جگہوں پہ بھی آسانی سے کھیل پایا جہاں پہلئ مجھے مشکل ہوتی تھی۔

ٹنڈولکر کی اپیل کے بعد اب اس ملازم کو ڈھونڈ لیا گیا ہے جسکا کہنا ہے کہ میرے لیے یہ اعزاز سے کم نہیں کہ ٹنڈولکر جیسے عظیم کھلاری نے مجھے آج بھی یاد رکھا ہوا ہے۔

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *