پہلا ٹیسٹ میچ، پاکستان نے ناقابل یقین ٹیم میدان میں اتار دی

سری لنکا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے پاکستان کی ٹیم سلیکشن نے سب کو حیران کر دیا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں 12 ہزار دو سو بائیس رنز، 34 سینچریز، 60 فیفٹیز بنانے والے فواد عالم کو خدا خدا کر کے اگر ٹیم میں شامل کیا ہی گیا تھا تو پہلے ہی میچ میں انھیں باہر بٹھا دیا گیا۔ ان کی جگہ حارث سہیل کو برتری دےدی گئی۔

یہ وہی حارث سہیل ہیں جو دورہ آسٹریلیا سے پہلے کے ناکام ہوتے آ رہے ہیں۔ رواں سیزن ڈومیسٹک مقابلوں میں بھی ان کی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ دوسری جانب پچھلے ہفتے سندھ کی نمائیندگی کرتے ہوئے دو سو رنز کی باری کھیلنے والے فواد عالم ایک مرتبہ پھر ٹیم کا حصہ بننے میں ناکام رہے۔

یاد رہے کہ فواد عالم رواں سال ڈومیسٹک سیزن میں ٹاپ 5 رنز سکورر میں شامل ہیں۔ اس کے برعکس حارث سہیل کو کہ مسلسل ناکام ہوتے آ رہے ہیں، ٹیم مینجمنٹ ان کو ٹیم کا حصہ بنائے ہوئے ہے۔

ٹیم سلیکشن کے حوالے سے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یاسر شاہ کو بھی پلئینگ الیون میں جگہ نہ ملی۔ راولپنڈی میں ٹاس کے وقت آسمان پہ بادل تھے اور وکٹ پہ موجود گھاس بھی شاید اس پچ پہ فاسٹ باولرز کے لیے مدد کا اشارہ کر رہی تھی۔ مگر اس وکٹ پہ سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے سیشن میں بغیر کسی نقصان کے 89 رنز بنائے۔

ٹیسٹ میچ میں کبھی بھی ایک دو دن کے حوالے سے پلینگ کر کے ٹیم تشکیل نہیں دی جاتی۔ ٹیم میں فرنٹ لائین سپنر کا نہ ہونا یہ سوال کھڑا کرتا کہ میچ کے آخری دو دن جب عموما پاکستانی وکٹوں پہ گیند بریک ہوتا ہے تب کیا گیم پلان ہو گا؟

اگر حارث سہیل کو ان کی پارٹ ٹائم سپنگ بالنگ کی وجہ سے ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے تو یہ بھی دیکھا جاتا کہ مد مقابل سری لنکا ہے جو روایتی طور پہ سپنرز کو اچھا کھیلتے ہیں

ایسے میں ایک پارٹ ٹائم سپنر پہ انحصار کیا ایک اچھا فیصلہ ہے؟ یہ بھی یاد رہے کہ فاسٹ باؤلرز کو بھی ریسٹ چاہیے ہوتا ہے اور وہ عموما لمبے سپیلز نہیں کروا پاتے۔

کیا آپ پہلے ٹیسٹ کے لیے ٹیم سلیکشن سے مطمئین ہیں؟ کیا فواد عالم اور یاسر شاہ کو ٹیم کا حصہ ہونا چاہیے تھا؟

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *