پاک بھارت سیریز کے بارے میں عمران خان بھی خاموش نہ رہ سکے

دوستو اگر آپ کو یاد تو پاکستان اور انڈیا کے درمیان آخر سیریز 2 1 0 2 میں ہوئی تھی جس میں پاکسان انڈیا گیا تھا اور وہ سیریز جیت کر آیا تھا – لیکن اگر ہم بات کریں اس وقت سیریز کروانے کی تو اس کے بارے میں ہمارے پرائم منسٹر کہتے ہیں کہ اس وقت کسی بھی قسم کا انڈیا سے تعلق قائم کرنے کی کوشش کرنا کسی بھی بہت بڑی بے وقوفی سے کم نہیں ہو گا – عمران کہتے ہیں کہ اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان حالات بہت ہی زیادہ نا سازگار ہیں لہذا ان حالات میں ایسا کوئی بھی قدم اٹھانا مناسب نہیں ہو گا

عمران خان نے مزید اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت انڈیا کے اندر جو پارٹی صاحب اقتدار ہے وہ اس ذہنیت کی مالک نہیں ہے کہ وہ اپنے پڑوسی اور خاص کر پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی خواہش مند ہو – عمران خان نے مزید بتایا کہ وہ اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ اگر پاکستان اور انڈیا کے حالات خراب ہوں تو پھر سٹڈیم میں میچ کھیلنا کس قدر مشکل ہوتا ہے

عمران خان نے مزید بتایا کہ انھوں نے بھارت میں ٹوٹل 2 سیریز کھیلی ہیں – پہلی سیریز 9 7 9 1 میں کھیلی تھی جس میں دونوں طرف سے حکومتیں ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہی تھیں اور اس لحاظ سے انڈین عوام کی طرف سے ساری پاکستانی کرکٹ ٹیم کو بہت پیار ملا تھا اور پاکستان کرکٹ ٹیم کو کسی بھی جگہ پر کسی قسم کی کوئی بھی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا

عمران خان نے کہا کہ اس کے بعد ان کا اگلا دورہ بھارت 7 8 9 1 میں ہو اور اس دفعہ دونوں طرف ایک بہت ہی زیادہ ٹینشن کا ماحول تھا اور دونوں حکومتیں ایک دوسرے کے خلاف زہر اگل رہے تھے – اور اس کے نتیجے میں عوام میں بھی یہی اثر تھا – عمران خان کہتے ہیں کہ ہم اس وقت جس قدر عوام میں مخالفت دیکھی تھی شاید اس سے پہلے ہم نے نہیں دیکھی تھی

اس کے نتیجے میں ہمیں متچز کے دوران بھی بھات مشکل کا سامنا کرنا پڑا – وہ کہتے ہیں کہ ہمارے کھلاڑیوں پر فیلڈنگ کے دوران پتھراؤ تک کیا گیا اور ایک ایسا موقع بھی آیا کہ جب ہمارے کھلاڑیوں کو فیلڈنگ کرنے کے لیے بھی ہیلمٹ پہننے پڑے – عمران خان نے پھر ایک دفعہ انڈیا کے ٹریپ کا ذکر کیا ہے جس میں بھارت  نے پاکستان کا دورہ کیا تھا

عمران خان نے کہا کہ پھر ایک دفعہ دونوں طرف کی حکومتیں ایک دوسرے کے ساتھ ٹھیک تھیں اور پھر جو کچھ میں نے دیکھا میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا تھا – لاہور کے لوگوں نے انڈین ٹیم اور انڈیا کے لوگوں کے کھلے دل سے استقبال کیا حتکہ پاکستان انڈین ٹیم سے سیریز ہار گئی تھی پھر بھی پاکستانیوں نے انڈین ٹیم اور ان کے لوگوں کی مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی

عمران خان نے اس کے بعد انڈین پاکستان سیریز کو انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والی ایشز سیریز کے ساتھ جوڑا اور کہا کہ جس طرح دنیا اس سیریز کو بہت زیادہ پسند کرتی ہے ویسے ہی دنیا انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والی سیریز کو بھی پسند کرے بلکہ اس کو اایشز سیریز سے زیادہ توجہ ملے اگر ان دونوں ملکوں کے درمیان کوئی بات جیت چل جائے

مزید پڑھیں: پاکستانیوں کے بڑی خوشخبری، انگلش کپتان نے بڑا اعلان کر دیا

عمران خان نے مزید کہا کہ اگر ان کے پاس میچ دیکھنے کا ٹائم ہو تو وہ میچ کے آخری 5 اوور ضرور دیکھا کریں لیکن اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ میچ یک طرفہ نہ ہوا ہو اور پھر یقینا اس کو دیکھنے کا مزہ بھی آئے گا

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *