یار گنگولی میں غلط تھا مجھے دل سے معاف کر دو

گنگولی یار سوری میں تم سے دل سے معافی مانگتا ہوں – جی ہاں یہ الفاظ ہیں ثقلین مشتاق کے گنگولی کے لیے جوکہ انھوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہے – ثقلین مشتاق نے اس انٹرویو کے دوران کہا کہ میں اس پروگرام کے توسط سے گنگولی کے لیے ایک بات کہنا چاہوں گا جس میں انھوں نے کہا کہ جب ہم لوگ میچز کے دوران کھیل رہے ہوتے ہیں تو اس وقت کھیل کے دوران کبھی کبھی انچ نیچ ہو جاتی ہے اور یہ کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے

انھوں نے مزید کہا کہ کرکٹ کے دوران یہ معامله اکثر ہو جاتا ہے کہ یہ صرف کرکٹ گراؤنڈ تک ہی رہتا ہے ماد میں معاملات ٹھیک ہو جاتے ہیں کیونکہ اس وقت بندے میں جوش ہوتا اور اگر یہ بات کہیں کہ اس وقت کے لحاظ سے اس کا تقاضا بھی ہوتا ہے کہ اس طرح کا جوش دکھایا جائے مگر اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہوتا ہے کہ یہ کوئی مستقل طور پر ہے

ثقلین مشتاق نے کہا کہ ایک میچ کے دوران ان کی بھی سارو گنگولی سے کچھ انچ نیچ ہو گئی اور انھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جب کوئی ایسا معامله ہو جاتا ہے تو جب میچ ختم ہونے کے بعد ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا جاتا ہے تو وہاں پر یہ چیز ختم ہو جانی چاہے – مگر ثقلین مشتاق کہتے ہیں کہ مجھے آج تک اس چیز کی سمجھ نہیں آئی کہ اس دن میچ کے دوران کیا ہوا تھا

انھوں نے کہا کہ اس دن سے پہلے تک کبھی بھی میری گنگولی کے ساتھ ایسی چپقلش نہیں ہوئی تھی جس طرح کا ماحول اس دن بن گیا تھا اور میں آج اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں بلکل بھی گنگولی کو سمجھ نہیں پایا تھا کہ وہ کس قسم کا انسان ہے اور وہ کس طرح کی شخصیت کا مالک ہے میں اس کو سمجھنے سے قاصر تھا – اور یہ میری غلطی تھی

اور پھر ثقلین بھائی اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بتایا کہ شاید مجھے یاد نہیں ہے کہ میں کبھی بھی سارو گنگولی کے کبھی بھی اتنا قریب نہیں گیا تھا اور کبھی اتنی زیادہ بات نہیں ہوئی تھی جس کی وجہ سے میں اس کو غلط سمجھ لیا یا پھر اس کی اچھائی کو سمجھ نہیں پایا – انھوں نے کہ میری گنگولی کے ساتھ صرف دور دور تک ہیلو ہائے کی حد تک بات جیت تھی

انھوں نے مزید کہا کہ ہم میچ کے دوران بھی اپنے موڈ میں رہتے تھے اور بولنگ کے دوران جو میچ کے ٹرکس ہوتے ہیں جیسے کہ یکد دوسرے کو آنکھیں دیکھانا اور ایک دوسرے کو گھور کے دیکھنا بس اس طرح چلتا تھا – پھر اس کے بعد ثقلین بھائی نے کہا کہ ان کا گنگولی کے ساتھ کبھی کوئی رابطہ نہیں رہا اور پھر ایک دفعہ ان دونوں کی ملاقات انگلینڈ میں ایک گراؤنڈ میں ہوئی

ثقلین مشتاق بھائی کہتے ہیں کہ وہ ایک کاؤنٹی میں کرکٹ کھیل رہے تھے اور دوسری طرف انڈین ٹیم انگلینڈ میں ٹور پر آئی ہوئی تھی جہاں پر ان کی ملاقات دوبارہ کافی دیر کے بعد سارو گنگولی سے ہوئی -انھوں نے کہا کہ یہ غالبا 6 0 0 2 کی بات ہے جب ان کے دونوں گھٹنوں کے آپرشن ہو چکے تھے  -جس کی وجہ سے ثقلین مشتاق کافی دیر تک چار پائی رہے –

ثقلین بھائی نے کہا کہ وہ کافی دیر کے بعد اپنی انجری سے واپس آئے تھے اور ان کو انگلینڈ کی ایک مشھور کاؤنٹی سے کنٹریکٹ بھی مل گیا تھا اور وہ اپنی کرکٹ میں واپس آ رہے تھے اور وہ اس بات پر کافی خوش بھی تھے – تو اس دوران انڈین کرکٹ ٹیم اور ثقلین مشتاق کی کاؤنٹی کے درمیان ایک پریکٹس میچ ہو رہا تھا اور ثقلین مشتاق کی ٹیم نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا

انھوں نے کہا کہ اس دن گنگولی اپنے ٹیم کی طرف سے وہ پریکٹس میچ نہیں کھیل رہا تھا تو جب اس نے مجھے بالکونی میں کھڑا ہوا دیکھا تو وہ دو کافی کے مگ اپنے ہاتھ میں تھامے ہوئے میرے پاس آ گیا اور اس نے مجھے وہ ایک کافی کا مگ مجھے دے دیا اور پھر اس نے میری صحت کے بارے میں پوچھا اور پھر میری فیملی کے بارے میں خیریت دریافت کی مطلب وہ بہت اچھے طریقے سے ثقلین بھائی سے ملا

ثقلین بھائی نے کہا کہ گنگولی تقریبا میرے پاس 0 4 منٹ رہا اور اس نے میرا دل جیت لیا کیونکہ شاید ثقلین بھائی کبھی بھی گنگولی کو اتنا قریب سے جان ہی نہیں سکے تھے جتنا قریب سے وہ گنگولی کو اس دن جانے اور وہ اس دن سے گنگولی کے فین ہو گئے – اور وہ جو تھوڑی سی دل کے اندر گنگولی کے بارے میں تلخ بات تھی وہ بلکل ہی ختم ہو گئی

ثقلین بھائی نے کہا کہ اس وقت میں بہت شرمندہ ہوا کہ میں نے اپنے ذہن میں اس کے بڑے میں کس طرح خاکہ بنایا ہوا تھا مگر یہ تو بلکل ہی اس کے برعکس ہے – ثقلین بھائی کہتے ہیں کہ انھوں نے اسی وقت گنگولی سے معافی مانگی اور کہا کہ مجھے معاف کر دو اگر ان سے کبھی کوئی غلطی ان کی دل آزاری ہوئی ہے – ثقلین مشتاق نے کہا کہ انھوں نے گنگولی کو بلکل صاف صاف کہ دیا کہ وہ کھیل کے دوران ان کو کچھ اور طرح سمجھتا تھا مگر ایسا بلکل بھی نہیں ہے

مزید پڑھیں: ورلڈ کپ میں تم میرے کپتان نہیں بلکہ میں تمہارا کپتان تھا

ثقلین مشتاق نے وہ سب کچھ گنگولی کو بتایا کہ وہ کھیل کے دوران سمجتھے تھے کہ آپ بہت غرور کرنے والے ہو اور کسی سے دوستی نہیں کرتے ہو اور اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتے ہو – ثقلین بھائی نے کہا کہ میں نے یہ ساری باتیں گنگولی سے کہیں اور بعد پر ان سب پر گنگولی سے کھلے دل سے معافی بھی مانگی کہ میں آپ کے بارے میں غلط خیال رکھتا تھا

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *