اگر دوسرا ٹیسٹ جیتنا ہے تو اس کھلاڑی کو نکال کر اس کو ٹیم میں شامل کر لو

سابق لیجنڈ کرکٹر عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ اس تجربہ کار کھلاڑی کی گیند بہت زیادہ سوئنگ ہوتی ہے اور پاکستان کرکٹ ٹیم کی مینجمنٹ کو چاہیے کہ وہ اس کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کر لیں – تفصیلات مطابق جب سے پاکستان انگلنڈ سے پہلا جیتا ہوا ٹیسٹ میچ ہارا ہے پاکستان کرکٹ ٹیم کی مینجمنٹ اسی دن سے اس بات پر غور کر رہی ہے کہ ہماری ٹیم کے اندر کس جگہ غلطی ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہم یہ جیتا ہوا میچ ہار گئے ہیں اور ایک بات تو طے ہے کہ ہم میچ صرف اور صرف اپنی بولنگ کی وجہ سے ہارے ہیں جبکہ ہماری بیٹنگ فلاپ ہونے کے باوجود بھی ایک اچھا ٹارگٹ سیٹ کر گئی تھی

اس معامله پر غور کرتے ہوئے مینجمنٹ اس فیصلے پر پہنچی ہے کہ پچھلے ٹیسٹ میچ میں ہمارے بولرز سے جو غلطی ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے بولر آخری اورز میں ریورس سوئنگ نہیں کروا سکے ہیں  اور اب پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ایسے بولرز کی تلاش ہے جوکہ تجربہ کار ہوں اور وہ اچھے طریقے سے ریورس سوئنگ بھی کروا سکیں –

تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم اس بات پر غور کر ہی رہی تھی کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بولر اور لاہور قلندر کے کوچ عاقب جاوید نے ایک بہت ہی اچھا مشورہ دیا ہے- ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو چاہیے کہ وہ نئے فاسٹ بولر نسیم شاہ کو ٹیم سے نکال دیں اور ان کی جگہ تجربہ کار بولر سہیل خان کو دوسرے ٹیسٹ میچ میں موقع دیں –

عاقب جاوید نے مزید کہا کہ سہیل خان ایک تجربہ کار بولر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے بولر بھی ہیں اور وہ ریورس سوئنگ کروانا بھی جانتے ہیں – اگر ہم بات کریں انگلینڈ میں ہونے والے پریکٹس میچز کی تو اس مین سہیل خان نے ایک میچ کے دوران 5 وکٹس بھی حاصل کیں تھیں جس پر سہیل خان وقار یونس کا بہت زیادہ شکریہ ادا کیا تھا اور سہیل خان کا کہنا تھا کہ یہ سب صرف اور صرف وقار یونس کی اچھی گائیڈ لائن کی وجہ سے ممکن ہوا ہے

اور جہاں تک نئے فاسٹ بولر نسیم شاہ کا معاملہ ہے تو وہ ابھی بلکل نیا بولر ہے اور وہ زیادہ پریشر برداشت نہیں کر سکتا ہے – اگر ہم پچھلا ٹسٹ میچ دیکھیں تو ہمیں اس بات کا بھی اندازہ ہو جائے گا کہ ہماری تقریبا ساری ٹیم زیادہ تر نئے لڑکوں پر مستمل تھی اور میچ ہارنے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ میچ کے دوران پیدا ہونے والے پریشر کو برداشت کرنا بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے

عاقب جاوید نے مزید کہا کہ ہم پہلے ٹیسٹ میچ مین جس جگہ پھنس گئے تھے وہاں پر صرف اور سرف ہمیں ریورس سوئنگ ہی نکال سکتی ہے اور ہمارے بولر بد قسمتی سے ریورس سوئنگ نہ کروا سکے – عاقب جاوید نے مزید کہا کہ اگر ہم شاہین شاہ کی بات کریں تو وہ ابھی اتنا میچور بولر نہیں ہوا ہے کہ اس کو پتہ چل جائے کہ گیند کو کس طرح سے رگڑا جائے تو وہ ریورس سوئنگ کرنا شروع ہو جاتی ہے

مگر اس کے مقابلے میں عاقب جاوید نے کہا کہ سہیل خان اب کافی تجربہ کار ہو چکا ہے اور وہ اب ان تمام باریکیوں کو بڑے اچھے طریقے سے جانتا ہے کہ گیند کو ریورس کرنے کے لیے کس جگہ سے اور کتنا رگڑنا ہے – عاقب جاوید نے کہا کہ ریورس سوئنگ کرنے کے لیے گیند کو باقاعدہ تیار کیا جاتا ہے اور پھر جا کر کہیں گیند ریورس سوئنگ ہونا شروع ہو جاتی ہے

مزید پڑھیں: بریکنگ نیوز: مشھور کرکٹر کی بیوی کو پولیس نے تھپڑ رسید کر دئیے

عاقب جاوید نے اس کے بعد عباس کے بارے میں بھی کہا کہ وہ بھی ریورس سوئنگ پر انحصار نہیں کر ستا ہے اور ان کے مطابق یہ ٹیم مینجمنٹ کی بہت بڑی غلطی تھی کہ انہوں نے سہیل خان کو پلیئنگ الیون میں نہیں کھلایا ہے – اس کے بعد انھوں نے پاکستانی وکٹ کیپر رضوان کی بھی بات کی اور کہا کہ وہ ان کی بیٹنگ سے بلکل بھی مطمئن نہیں ہے اور انہوں نے آخر میں بات کی کہ ٹیلنٹ 2 سال کے اندر باہر آ جاتا ہے اگر 2 سال تک کھلاڑی اپنا آپ نہیں دکھاتا ہے اس کا مطلب ہے کہ اس میں کچھ نہیں ہے

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *