مشتاق احمد نے یاسر شاہ کو کیا ٹپس دی تھیں جس کی وجہ سے اس نے کمال کر دیا

پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز سپین بولر اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے موجودہ سپین بولنگ کوچ  نے یاسر شاہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے پہلی انننگز میں بہت ہی اچھی بولنگ کی اور اس کو جس طرح مین نے سمجھایا تھا اس نے بلکل ویسے ہی اپنی بولنگ کی ہی جس کی وجہ سے ساری ٹیم کو بھی اس کا فائدہ اور اس کی اپنی پرفارمنس بھی بہت ہی اچھی ہوئی ہے اور اس کا چرچا بھی خوب ہوا ہے

اگر ہم یاسر شاہ کی کل کی پرفارمنس کی بات کریں تو یاسر شاہ نے پہلے ٹیسٹ کی پہلی انننگز میں 4 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا ہے اور یاسر شاہ کی اس اچھی بولنگ کی وجہ سے انگلینڈ کی ساری ٹیم صرف 9 1 2 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی اور اسی وجہ سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے یہ ٹیسٹ میچ جیتنے کے چانسز بہت زیادہ ہو گئے ہیں

تیسرے دن کے اختتام پر مشتاق احمد نے ایک نجی تی وی چینل کو انٹویو دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے یاسر شاہ کے ساتھ بہت زیادہ محنت کی ہے اور اس کو اس قابل بنایا ہے کہ وہ اپنی پرفارمنس کو برقرار رکھ سکے – انھوں نے مزید کہا کہ انھوں نے یاسر شاہ کے بولنگ ایکشن پر بہت زیادہ محنت کی ہے جوکہ اتنا اچھا نہیں تھا اور اس کو اس مقام تک لے کر آئے کہ وہ اس کو پورے ایکشن تک لے کر آیا

مشتاق احمد کی بات کرنے کا مقصد یہ تھا کہ پہلے یاسر شاہ پورے ایکشن کے ساتھ بولنگ نہیں کرواتا تھا پھر جب یاسر شاہ نے مشتاق احمد سے کوچنگ لینی شروع کی تو پھر اس نے پورے ایکشن کے ساتھ بولنگ کروانا شروع کی ہے – انھوں نے کہا کہ میچ دوران بھی انھوں نے اس کو مکمل سپورٹ کیا ہے جس کی وجہ سے اس نے یہ وکٹس حاصل کیں اور اپنی ٹیم کی کامیابی مین اہم کردار ادا کیا

مزید پڑھیں: انگلینڈ پاکستان سے یہ ٹیسٹ میچ نہیں جیت سکتا ہے – سابقہ انگلش کپتان نے یہ کہ کر سب کو حیران کر دیا

اس کے ساتھ ساتھ مشتاق احمد نے یاسر شاہ کے ساتھی شاداب خان کی بھی بہت تعریف کی اور انھوں نے کہا کہ اس نے بھی بہت اچھی بولنگ کی ہے اور خاص کر جب میچ کا آخری سپیل چل رہا تھا تو اس وقت شاداب خان مزید خطرناک ہو گیا تھا – اس کے علاوہ مشتاق احمد نے کہا کہ پچ کی کنڈیشن بھی بہت اچھی تھی جوکہ سپنر اور فاسٹ بولر سب کو سپورٹ کر رہی تھی اور اس کے علاوہ شاداب خان کی سپورٹ کی وجہ سے بھی یاسر شاہ کو بہت فائدہ ہوا

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *