آئی سی سی نے 7 سال کے لیے مسلمان کرکٹر پر پابندی لگا دی

تازہ تفصیلات کے مطابق آئی سی سی نے ایک مسلمان کرکٹر پر 7 سال کے لیے پابندی لگا دی ہے – اور اس پابندی کی وجہ ایسی ہے کہ ہمیں بھی بتاتے ہوئے شرم آ رہی ہے کہ کہ ایک مسلمان ہوتے ہوئے کوئی ایسی حرکت بھی کر سکتا ہے – پہلے ہی انٹرنیشنل سطح پر مسلمانوں کا امیج بہت ہی خراب ہے اور پھر جب اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں تو پھر تمام دنیا کے مسلمانوں کو مزید شرمشاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے

تفصیلات کے مطابق یہ کرکٹر مسملم ممالک عمان سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا نام یوسف عبدل رحیم ہے اور اس پر آئی سی سی کے یونٹ انٹی کرپشن نے 7 سال کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ سے دور کر دیا ہے – یہ کہا جا رہا ہے کہ یوسف کو اس وقت انٹرنیشنل کرکٹ سے دور کر دیا گیا جب اس پر لگے تمام الزامات کا اس نے خود سے اعتراف کر لیا تھا اور اس نے اس بات کی حامی بھر لی کہ وہ ان تمام غلط قسم کی ڈیلز میں شامل ہے

تفصیلات کے مطابق یوسف پر یہ تمام الزمات ٹیب لگائے گے جب مینجمنٹ کو ان پر شک ہوا کہ وہ تی ٹوینٹی ورلڈ کپ کے کوالیفائی رونڈز میں میچز کے دوران مختلف معاملات مین خرد برد کرتے ہوئے نظر آئے اور یہ تمام میچز دبئی اور ابو ظبی میں ہو رہے تھے -مینجمنٹ نے صورتحال کے جائزہ لیتے ہوئے فورا اس کھلاڑی کی نگرانی شروع کر دی اور اس کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا

یہ معامله یہاں پر ہی ختم نہیں ہوا ہے بلکہ یو اے ای کے 3 کھلاڑی اور بھی ہیں جن پر مختلف الزامات لگا کر ان کو بھی انٹرنیشنل کرکٹ سے باہر نکال دیا گیا ہے ان کرکٹرز کے نام یہ ہیں محمّد نوید ، قدیر احمد اور شیمن انور – مگر ان تمام کھلاڑیوں پر لگے الزامات ایک دوسرے پر لگے الزامات سے بلکلول مختلف ہیں اور ان پر فوری طور پر عمل کر کے ان کو سزا دی جائیگی

اگر ہم بات کریں محمّد نوید کی تو وہ اس وقت دبئی مین ہونے والے ان میچز مین ایک بہت ہی مشھور کرکٹر بن چکا ہے اور لوگ اس کو اس کی اچھی کرکٹ کی وجہ سے جاننا شروع ہو چکے ہیں مگر اس جرم کے بعد اس نے اپنے اپر لگے تمام الزامات قبول کر لیے ہیں اور اس پر 5 سال کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ پر پابندی لگا دی گئی ہے –

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ اگلے ماہ اپنے اپر لگی سزا کے خلاف کورٹ مین اپیل بھی کرے گا تاکہ وہ اس سزا کو کم کروا سکے اور اس کو سزا دینے والا وہی ٹریبونل ہے جس نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں محممد عامر ، محممد آصف اور سلمان بٹ کو سزا سنائی تھی -آئی سی سی کے الزام کے مطابق یوسف نے 7 1 0 2 میں بحرین میں ایک ٹورنامنٹ میں حصہ لیا تھا جوکہ قانونی طور پر جائز نہیں تھا

مزید پڑھیں: بریکنگ نیوز: شین واٹسن نے وسیم اکرم سے معافی مانگ لی

اگر ہم بات کریں آئی سی سی کے قانون کی تو اس کو اپنے کرپشن کے قانون مزید سخت کر دینے چاہے تاکہ کوئی بھی کھلاڑی غلطی سے بھی کوئی ایسی حرکت نہ کر سکے جس سے کرکٹ کی خوبصورتی خراب ہوتی ہو – ہم اس عمل مین آئی سی سی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ وہ ہر اس عمل کو ٹائم پر روکتا ہے اور اس کی سزا بھی سناتا ہے

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *