ہمارا یہ بیٹسمن سہواگ سے کہیں زیادہ تلنٹڈ تھا – شعیب اختر

آخر کار شعیب اختر نے بھی اس موضوع پر بات کر ہی ڈالی – شعیب اختر نے باقاعدہ کرکٹ کا آغاز تقریبا ١٩٩٨ میں شروع کیا تھا اور اس کے بعد وہ مسلسل پاکستان ٹیم کا حصہ رہے ہیں اور وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی ہر اونچ نیچ سے بھی واقف ہیں – شعیب اختر کے دور میں بھی پاکستان کرکٹ ٹیم میں بہت زیادہ سیاست ہوا کرتی تھی اور کئی دفعہ وہ خود بھی سیاست کا شکار ہو چکے ہیں مگر ان کی گیم نے کرکٹ انتظامیہ کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ ان کو ٹیم میں رکھیں

شعیب اختر نے کہا کہ میں نہیں مانتا ہوں کہ انڈین بیٹسمن سہواگ پاکستان کے اوپنر بیٹسمن عمران نذیر سے زیادہ اچھے اور تلنٹڈ تھے- شعیب اختر نے کہا کہ میں عمران نذیر کے ساتھ کرکٹ کھیل چکا ہوں اور میں اس کی خوبیوں کو بہت اچھے طریقے سے جانتا ہوں میں سمجھتا ہوں کہ عمران نذیر کو صرف اچھے طریقے سے استعمال نہیں کیا گیا ہے اگر اس کو اچھے طریقے سے استعمال کیا جاتا تو وہ بہت اچھا بیٹسمن بن کر پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا مگر افسوس ایسا نہیں ہو سکا

شعیب اختر مزید کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ عمران نذیر کا دماغ وریندر سہواگ سے کہیں زیادہ تیز تھا اور اگر ہم ان کا ٹیلنٹ کے لحاظ سے موازنہ کریں تو یہ موازنہ بلکل بھی جائز نہیں ہے کیونکہ ان دونوں کا کوئی موازنہ نہیں ہے – شعیب اختر نے مزید کہا کہ جس وقت عمران نذیر نے انڈیا کے خلاف بہت اچھے کھیل کا مظاہرہ پیش کیا اور انڈیا کے خلاف سنچری سکور کی تو میں نے کہ دیا تھا کہ اگر مینجمنٹ اس لڑکے سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے تو پھر اس کو مسلسل موقع دینے کی ضرورت ہے

مگر شعیب اختر نے کہا کہ اس وقت میں خود بھی ٹیم میں نیا تھا تو میں صرف بات ہی کر سکتا تھا اور میری بات کو سنی ان سنی کر دیا گیا – شعیب اختر نے ایک دفعہ پھر بورڈ کی طرف سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ بورڈ نے اپنے برانڈ کا بلکل بھی خیال نہیں رکھا ہے جس کی وجہ سے بڑے بڑے اچھے تلنٹڈ کھلاڑی ہمارے ہاتھ سے نکل گئے ہیں جن میں سے عمران نذیر بھی ایک ہے

شعیب اختر نے پھر کہا کہ انڈیا اس حوالے سے ہم سے کہیں زیادہ بہتر ہے جس نے ایسے کھلاڑیوں کو موقع دے کر اتنا اچھا پلیر بنا دیا جو کہ ہمارے کھلاڑیوں سے زیادہ اچھے نہیں تھے اور صرف اور صرف بہترین پلاننگ کی وجہ سے انڈیا کی ٹیم آج پاکستان کرکٹ ٹیم سے کہیں آگے نکل چکی ہے – یہ ان کی پلاننگ ہی ہے کہ آج انڈیا کی ٹیم دنیا کی نمبر ون ٹیموں میں ایک ہے

مزید پڑھیں: موقع ملا تو اس ٹیم کا بولنگ کوچ بننا چاہوں گا – شعیب اختر

اور ہماری ٹیم اس وقت بہت بری کنڈیشن میں ہے – شعیب اختر پھر عمران نذیر کی بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عمران نذیر کے پاس نہ صرف بہت زیادہ شارٹس کھیلنے کا تجربہ تھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ وہ بہت اچھا فیلڈر بھی تھا مگر وقت کی ستم ظریفی یا پھر کچھ اور مگر ہم عمران نذیر کی حفاظت نہیں کر سکے – دوستو اگر یہی عمران نذیر آسٹریلیا یا پھر انڈیا کے پاس ہوتا تو پھر آپ سوچیں ذرا کہ وہ کس طرح کا کھلاڑی بن کر ابھرتا

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *