میرے نزدیک اس پاکستانی بیٹسمن سے بہتر دنیا میں کوئی بھی بیٹسمن نہیں ہے – عمران طاہر

اس پاکستانی نژاد جنوبی افریقہ کے کھلاڑی عمران طاہر نے کچھ دن پہلے بھی ایک بیان دیا تھا جوکہ بہت ہی زیادہ جذباتی بیان تھا اور عمران طاہر کے تمام خیالات کی ترجمانی کر رہا تھا جس میں انھوں نے ان خیالات کا اظہار کیا کہ کاش وہ بھی اپنے ملک پاکستان کے جھنڈے تلے کھیل سکتے – اگر ہم بات کریں عمران طاہر کے آج کے بیان کی جس میں انھوں نے پاکستانی بلے باز کے بارے میں بہت تعریف کی ہے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان سے بہتر پوری دنیا میں کوئی دوسرا بیٹسمن نہیں ہے – جی ہاں دوستو عمران طاہر بات کر رہے ہیں بابر اعظم کی اور ساتھ ہی وہ ان کے لیے نیک تمناؤں کا بھی اظہار کر رہے ہیں

عمران طاہر نے یہ بھی کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم بابر اعظم کی قیادت میں آگے بڑے گی اور بھات زیادہ کامیابیاں سمیٹے گی – دوستو آپ کو یاد کرواتے چلیں یہ کوئی پہلے آوٹ آف پاکستانی نہیں ہیں جو کہ بابر اعظم کی اتنی زیادہ تعریف کر رہے ہیں اس سے پہلے اور بھی بہت سے غیر ملکی بلے باز اور سابق ٹیسٹ کرکٹر بھی ہیں جنہوں نے ہمیشہ سے ہی بابر اعظم کی صلاحیتوں کو مانا اور بہت زیادہ تعریف بھی کی

اگر ہم بات کریں سابق پاکستانی کوچ کی تو انھوں نے کہا کہ مجھ پر اکثر اس بات کا الزام لگایا جاتا تھا کہ میں بابر اعظم کے ساتھ زیادہ اچھا برتاؤ کرتا تھا مگر اس بات کا مجھے اندازہ تھا کہ یہ کس قدر اچھا کھلاڑی ہے اور مستقبل میں یہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے کتنا بڑا سرمایا بنے گا اس لیے میں اس کا ہمیشہ سے ہی بھات خیال رکھتا تھا تاکہ اس کے سیکھنے کے دنوں میں اس کے ساتھ کوئی کسی قسم کی زیادتی نہ ہو جائے جس سے اس کو پھر ساری عمر پچھتانا پڑے جیسے کے ایک اور پاکستانی کرکٹر محمّد عامر کے ساتھ ایسا ہو چکا ہے

اگر عمران طاہر کی بات کریں تو وہ بھی بابر اعظم کے بارے میں بہت مثبت سوچ رکھتے ہیں اور وہ ان کے لیے دعا گو ہیں کہ الله ان کو اور زیادہ ترقی اور عزت عطا کرے جس کا وہ مستحق ہیں – جب عمران طاہر سے کرونا وائرس کی وجہ سے اسٹیڈیم کے خالی ہونے کے بارے میں پوچھا گیا کہ ان کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے اور کیا اسٹیڈیم خالی ہونے سے کھلاڑی کی پرفارمنس پر فرق پڑتا ہے تو اس پر انھوں نےبہت خوبصورت جواب دیا

عمران طاہر نے کہا کہ کسی بھی کھلاڑی کو کرکٹ کھیلنے کا مزہ تب آتا ہے جب وہ ایک اچھی کرکٹ کھیل رہا ہوتا ہے – اگر آپ ایک اچھی کرکٹ کھیل رہے ہو تو پھر چاہے تماشائی ہوں یا پھر نہ ہوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے – لہذا تمام دنیا کے کھلاڑیوں کو تماشائیوں کے ہونے یا پھر نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہے – عمران طاہر نے پھر بابر اعظم کی بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ سخت محنت کو اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑتا ہے اور وہ پورے عزم کے ساتھ لگا رہتا ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت بابر اعظم کو ہرا نہیں سکتی ہے

عمران طاہر کہتے ہیں کہ میں نے جس دن سے کرکٹ شروع کی میں نے ہمیشہ سے ہی دوسرے سے مقابلہ کیا ہے اور میں نے ہمیشہ سے ہی یہ ذہن میں رکھا کہ وہ بولر آج جس جگہ پر کھڑا میں نے بھی اسی جگہ پر کھڑا ہونا ہے اور اس چیز نے مجھے بہت زیادہ سیکھنے کا موقع دیا اور میں کبھی بھی اپنی کرکٹ کیریئر میں آرام سے نہیں بیٹھا ہوں میں خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہا ہوں – عمران طاہر نے کہا کہ اگر بابر اعظم بھی خوب سے خوب تر کی تلاش میں نکل آیا تو پھر وہ کرکٹ کی دنیا میں چمکنے والا ستارہ ثابت ہو گا

مزید پڑھیں : میں دعوی سے کہتا ہوں کہ اگر انڈیا نے ناانصافی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا تو —شعیب اختر

عمران طاہر نے مزید کہا کہ انھوں نے کبھی بھی ہمت نہیں ہاری ہے میں جو کام شروع کیا ہے اس کو ختم کر کے ہی دم لیا ہے اور جتنے بھی کامیاب لوگ ہوتے ہیں وہ اپنا کام ختم کر کے ہی دم لیتے ہیں اور پھر یہی عادت ایک دن ان کو ساری دنیا کے سامنے عظیم بھی کر دیتی ہے اور ساری دنیا سے جدا بھی کر دیتی ہے اور پھر آپ ساری دنیا سے انوکھے اور نرالے بھی نظر آتے ہو –

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *