بریکنگ نیوز: ١٩٩٧ میں انضی بھائی کی لڑائی آلو کہنے کی وجہ سے نہیں ہوئی تھی

انضی بھائی نے سابق انڈین کپتان کی خوبصورت بیوی کو ایک جنونی آدمی سے کس طرح بچایا- دوستو یہ بات ہو رہی ہے ١٩٩٠ کے دور کی جس میں انضی بھائی ابھی نئے نئے کرکٹ کی دنیا میں آئے تھے اور وہ ایک بھرپور آدمی تھے اور بہت زیادہ صحت مند بھی تھے -اگر آپ کو یاد ہو تو شاید انضی بھائی کی گراؤنڈ کے اندر ایک تماشائی سے لڑائی تو آپ کو یاد ہو گی جس میں انضی بھائی اس کو بیٹ دے مارا تھا اور اس آدمی نے انضی بھائی کو آلو کہا تھا – یہ بات ١٩٩٧ کی ہے جب پاکستان شارجہ میں اپنا میچ کھیل رہا تھا

یہاں پر ہم آپ سے ایک وہ نئی بات شیئر کرنے جا رہیں ہیں جوکہ ہے تو بہت پرانی مگر آج ہم آپ کو 22 سال بعد بتائیں گے – وقار یونس اس کہانی کو ایسے بیان کرتے ہیں کہ اصل میں بات ایسے نہیں تھی جیسے کہ اس وقت سے لیکر ابتک میڈیا میں بیان کی جا رہی ہے اس کے پیچھے کچھ اور کہانی تھی – وقار اس کہانی کو بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کوئی آلو کا چکّر نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے معامله کچھ اور تھا

وقار یونس کے مطابق ایک جنونی فین تھا جوکہ بار بار محمّد اظہر الدین کی بیوی جس کا نام سنگیتا بجلانی تھا اور وہ بہت خوبصورت بھی تھی اس کو تانگ کر رہا تھا اور انضی بھائی کو یہ بات بلکل بھی اچھی نہیں لگ رہی تھی اور وہ فین اسی چکر میں میچ دیکھنے بھی آ گیا تھا اور جب اس نے انضی بھائی کو گراؤنڈ میں دیکھا تو اس نے اس بار انضی بھائی کو تانگ کرنے کے لیے آلو کہ دیا اور انضی بھائی کو اس پر پہلے سے ہی غصہ تھا تو پھر انضی نے کچھ نہیں دیکھا اور اس کی خبر لینے خود ہی وہاں پہنچ گیا

وہاں پر موجود تماشائیوں اور پولیس نے فورا مداخلت کر کے معاملات کو ٹھنڈا کیا ورنہ انضی بھائی کے ہاتھوں اس کی بہت پٹائی ہونی تھی اس پر انضی بھائی کو جرمانہ بھی ہوا تھا – وقار یونس کے مطابق انضی بھائی نے محمّد اظہر الدین کاکیس اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا اور اس کو خود ہی حل کرنے چل پڑا تھا اور وقار یونس نے یہ بھی کہا کہ وہ تماشائی ہجوم میں بھی محمّد اظہر الدین کی بیوی کے بارے میں غلط زبان استمال کر رہا تھا جس پر انضی بھائی نے اس کی طبیعت صاف کرنے کا سوچا

وقار یونس مزید بتاتے ہیں کہ ہمیشہ سے ہی پاکستان اور انڈیا کے کھلاڑیوں کے درمیان آپس میں بہت زیادہ دوستی رہی ہے اگرچہ کہ دونوں ممالک کے درمیان کبھی بھی فضا پرامن نہیں رہی ہے مگر پاکستان اور انڈیا کے کرکٹ ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان کا موسم ہمیشہ سے ہی اچھا رہا ہے اور آج تک اچھا ہی لگتا ہے اسی وجہ سے تو انضی بھائی نے کسی کی لڑائی خود لڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا

وقار یونس مزید بتاتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ ہم لوگ گراؤنڈ میں ایک دوسرے کا بلکل بھی خیال نہیں رکھتے تھے مگر جب ہم گراؤنڈ سے باہر ہوتے تھے تب ہمارے درمیان بہت اچھی دوستی ہوتی تھی اور ہم ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتے تھے – وقار یونس مزید بتاتے ہیں کہ انضی بھائی نے پہلے 12 کھلاڑی کو بلا کر کہا کہ وہ اس کے لیے ایک بیٹ لائے جب انضی بھائی کو بلا مل گیا تو پھر انضی خود اس آدمی کے پیچھے چلا گیا جو محمّد اظہر الدین کی بیوی کے بارے میں غلط زبان استعمال کر رہا تھا

اس کے نتیجے میں انضمام الحق کو دو ون ڈے میچز سے باہر کر دیا گیا تھا – وقار یونس مزید بتاتے ہیں کہ معامله مزید خراب ہو سکتا تھا اور معاملہ کورٹ تک بھی جا سکتا تھا مگر محممد اظہر الدین اس معاملہ میں آ گے اور اس نے اس تماشائی سے بھی بات کی جوکہ انڈین تھا لہذا اس عنی اظہر الدین کی بات کو مان لیا جس کی وجہ سے انضی بھائی کورٹ جانے سے بال بال بچ گئے اس طرح یہ معاملہ رفع دفع ہو گیا

میچز کے دوران اکثر واقعات پیش آتے ہیں جس میں تماشائی جان بوجھ کر مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کو تنگ کرتے ہیں تاکہ ان کی یکسوئی کو ہلایا جائے اور وہ میچ میں اچھے طریقے سے پرفارم نہ کر سکیں – مگر یہاں پر سین ہی کچھ اور تھا – آج سے پہلے تو ایسا ہی لگ رہا تھا کہ جیسے وہ تماشائی انضی بھائی کو تنگ کر رہا ہے اور بار بار آلو آلو کہ رہا ہے مگر اصل بات تو اب پتہ چلی ہے کہ انضی بھائی نے وہ لڑائی جان بوجھ کر اپنے سر پر لی تھی

کیونکہ وہ تماشائی محمّد اظہر الدین کی بیوی کے بارے میں نا زیبا الفاظ استمال کر رہا تھا جس پر انضی بھائی کو غصہ آ گیا اور ہر سارا معامله خراب ہو گیا – اس سے ایک بات تو ثابت ہوتی ہے کھلاڑی آپس میں کس قدر ایک دوسرے کی قدر کرتے ہیں اور ایک ہم تماشائی ہیں جوکہ ایک دسورے سے لڑنا شروع ہو جاتے ہیں -دوستو یہ ایک کھیل ہے یہ جنگ نہیں ہے لہذا ہم کو اس کو ایک کھیل کی طرح ہی لینا چاہے

مزید پڑھیں: پورے بھارت میں نسیم شاہ، شاہین آفریدی اور حیدر علی کی دھوم

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اگرچہ یہ دونوں کھلاڑی دشمن ممالک سے تعلق رکھتے ہیں یعنی کہ پاکستان کا انڈیا کے ساتھ اکثر پھڈا رہتا ہے مگر انضی بھائی نے دوستی کی ایک مثال قائم کر دی ہے اور دیکھیں وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کس حد تک اچھے ہیں اور ایک دوسرے کی کتنی قدر کرتے ہیں – اب فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ ہم نے اپنے اس خطے میں کس طرح رہنا ہے جس طرح ہمیں سیاست دان کہ رہے یا پھر جس طرح ہمیں دونوں ملکوں کے کھلاڑی کہ رہے ہیں فیصلہ اب آپ کے ہاتھ میں ہے

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *