میں اس پاکستانی کھلاڑی کا ساری زندگی احسان مند رہوں گا – ہربھجن سنگھ

میں اس پاکستانی کا احسان ساری زندگی نہیں بھول سکتا ہوں جی ہاں یہ الفاظ ہیں اس شخص کے جس نے کبھی بھی پاکستان دشمنی کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا – ہربھجن سنگھ کا کہنا ہے کہ شاید ہی وہ انڈین کرکٹ ٹیم میں اپنی جگہ بنا سکتے اگر ان کو ثقلین مشتاق کی سپورٹ حاصل نہ ہوتی انہوں نے مزید ثقلین مشتاق کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کےنزدیک دوسرا کو ایجاد کرنے والا یہ آف سپنر دنیا کا بہترین بولر تھا

ہربھجن سنگھ نے یہیں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے ثقلین مشتاق کی مزید تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ واقعی ہی ایک زبردست آف سپنر بولر تھا جس کو اپنی بال پر کنٹرول تھا اور جیسے چاہتا تھا اور جس طرح چاہتا تھا وہ گیند کو کر سکتا تھا – ثقلین مشتاق نے گراؤنڈ کے اندر اپنا ایک مقام بنایا ہوا تھا اور دنیا کا اچھے سے اچھا بیٹسمین بھی ثقلین مشتاق کو کھل کر کھیلنے سے ڈرتا تھا – بیشک وہ خداداد صلاحیتوں کا مالک تھا

ہربجھن سنگھ نے مزید ثقلین مشتاق کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے دور میں ثقلین مشتاق جیسے آف سپنر بہت ہی کم تھے – سنگھ نے کہا کہ میچ کے آخری اوور زیادہ تر کپتان گیند فاسٹ بولر کو دیتا ہے مگر ثقلین مشتاق ان چند ایک اچھے آف سپنر بولرز میں سے تھے جن پر ان کا کپتان اعتماد کرتا تھا اور ان میں یہ صلاحیت تھی کہ وہ آخری اوور میں بھی 4 -3 سکور کا دفاع کر سکتے تھے

سنگھ نے ثقلین مشتاق کی مزید تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بیشک ثقلین مشتاق ایک میچ ونر بولر تھے اور یہ صرف اور صرف ان کی مخصوص بال “دوسرا ” کی وجہ سے ہی ممکن تھا – اہوں نے کہا کہ میں نے بھی دوسرا کا ہنر ثقلین بھائی سے ہی سیکھا ہے اور میں صرف اور صرف دوسرا بال کی وجہ سے ہی انڈین کرکٹ ٹیم میں رہ سکا اس کے علاوہ مجھ میں کوئی ایسی خوبی نہیں تھی جو کہ انڈین ٹیم کا حصہ بن پاتے

مزید پڑھیں: میں نے پہلے ہی ٹھان لی تھی کہ ایشون کی کیسے پٹائی کرنی ہے – شاہد خان آفریدی

ہربھجن سنگھ نے مزید کہا کہ میچ کے دوران معین خان ثقلین مشتاق کو آواز دیا کرتے تھے کہ وہ دوسرا بال کروائیں – سنگھ نے یہ بھی کہا کہ پوری انڈین ٹیم میں ان سے بہتر دوسرا بال کوئی نہیں کرواتا تھا جس کی وجہ سے وہ انڈین ٹیم کا حصہ بن سکے سنگ نے مزید کہا کہ میری گیند ہی ایسی تھی جو کہ پچ پر دنوں طرف ٹرن ہوتی تھی اور کوئی دوسرا انڈین بولر یہ سب کچھ کرنے سے قاصر تھا -سنگھ نے کہا کہ میں اس بال کو لیگ کٹر کہا کرتا تھا مگر مجھے معین خان سے یہ پتا چلا کہ اس کا نام دوسرا ہے جب وہ وکٹوں کے پیچھے سے چلایا کرتا تھا کہ ثقلین دوسرا کرو دوسرا

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *