کرکٹ کی ہسٹری میں وہ چند بولرز جنہوں نے ساری دنیا کو حیران کر دیا – جانیے ان میں کتنے پاکستانی ہیں

کرکٹ کی تاریخ تیزترین بولرزانتہائی مشکل اسپنرز اور ان جیسے بے انتہا بولرز سے بھری پڑی ہے۔ وہیں کچھ ایسے بولرز بھی آئے ہیں جو جب گراؤنڈ میں آتے تھے تو بڑے بڑے بیٹسمینوں کے پسینے چھوٹ جاتے تھے۔ لیکن آج کی اس ویڈیو میں ہم آپکو 5 ایسے بولرز کے بارے میں بتائیں گے جنہوں نے 10 سال سے زیادہ کرکٹ کھیلی لاتعداد ٹیسٹ اور ون ڈے میچ کھیلے، ان گنت deliveries کروائیں لیکن کبھی بھی نو بال نہیں کروائی۔

ایسے بولرز کے بارے میں جاننے سے پہلے اگرآپ نے ابھی تک ہمارا یہ چینل سبسکرائب نہیں کیا تو چینل سبسکرائب کرلیں اور ساتھ موجود گھنٹی کے بٹن کو دبادیں۔

Number 5: Kepil Dev
India 1978-1994
۱۹۸۳کے ورلڈ کپ میں انڈیا کو فتح دلوانے والے کپل دیو انڈیا کی تاریخ کے کامیاب ترین آلراؤنڈر مانے جاتے ہیں لیکن بدقسمتی سے انکے بعد انڈیا نے کوئی ایک بھی ان جیسا آلراؤنڈر پیدا نہیں کیا۔ ہریانہ میں پیدا ہونے والے کپ دیو نے اپنے کرکٹ کیرئیر کا آغاز 1978 میں کیا اور 1994 میں اپنی ریٹائرمنٹ تک وہ کرکٹ میں بہت سارے ریکارڈ اپنے نام کرچُکے تھے۔ انہوں نے انڈیا کی جانب سے 131ٹیسٹ میچ اور 225 ون ڈے انٹرنیشنل کھیلے جن میں انہوں نے 434 ٹیسٹ اور 253 ون ڈے کی وکٹیں حاصل کیں۔وہ واحدکرکٹر بھی ہیں جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 5000 سے زائد رنز اور 400 سے زائد وکٹیں حاصل کررکھیں۔ انہوں نے اپنے 16 سالہ کیرئیر میں کُل 38942 ڈلیوریز کروائیں لیکن انڈینز کے مطابق ایک بھی دفعہ نوبال نہیں کروائی۔ وہیں بہت سارے کرکٹ رپورٹرز کے مطابق انہوں نے اپنے کیرئیر میں تقریبا 8 نو بالز جبکہ 13 کے قریب وائیڈ بالز کروائیں۔ اس لیے انہیں پانچویں نمبر پہ رکھا جارہا ہے۔

Number 4: Lance Gibbs
West Indies 1958-1976 (18 Years)
ویسٹ انڈیز کے لانس گبز کا شمار ٹیسٹ کرکٹ کے چند کامیاب ترین بولرز میں ہوتا ہے۔ وہ دُنیا کے دوسرے بولر تھے جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں ۳۰۰سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں جبکہ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے دُنیا کے پہلے اسپنر بھی تھے۔ انہوں نے اپنے 18 سالہ کیرئیر کے دوران کُل 79 ٹیسٹ جبکہ 3 ون ڈے میں کھیلے جن میں انہوں نے کُل 27271گیندیں کروائیں لیکن ایک بھی نو بال نہیں کروائی وہ دُنیا کے سب سے پہلے بولر بھی ہیں جنہوں نے اپنے کیرئیر کا اختتام بنا کوئی نوبال کروائے کیا تھا۔
Number 3: Ian Bothom
England 1977-1992 (15 Years)
آئن بوتھم کو انگلینڈ کرکٹ ٹیم کی تاریخ کے کا بہترین آلراؤنڈرماناجاتا ہے۔ بوتھم ٹیسٹ کرکٹ میں تیزترین 1000 رنز اور ۱۰۰وکٹیں حاصل کرنے والے دُنیا کے پہلے بولر تھے۔ انگلش کرکٹ میں ایک آئیکن کی حیثیت رکھنے والے آئن بوتھم کو اب بھی دُنیا کے چند بہترین آلراؤنڈرز میں سے ایک ماناجاتا ہے یہی وجہ ہے انہیں انگلینڈ میں سرکےخطاب سے بھی نوازا گیا تھا۔ آئن بوتھم نے کُل 15 سال کرکٹ کھیلی جن میں انہوں نے 102ٹیسٹ جبکہ 116 ون ڈے میچ کھیلے۔انہوں نے اپنے 15سالہ کیرئیر میں 28086 ڈلیوریز پھینکی لیکن کبھی بھی نوبال نہیں کروانے کا اعزاز حاصل کیا۔

Number 2: Denis Lillee
Australia 1971-1984 (13 Years)
ڈینس للی کو بلاشبہ دُنیا کے چند ایسےا ٓلراؤنڈرز میں شامل کیا جاتا ہے جنہوں نے کرکٹ کو بدلنے میں اہم کردارادا کیا۔وہ ٹیسٹ کرکٹ میں 350 سےزیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے دُنیا کے پہلے بولرتھے ۔ اسکے علاوہ وہ دُنیاکے واحد بولر ہیں جنہوں نے اپنے کیرئیر کی آخری گیند پہ بھی وکٹ حاصل کی تھی۔ ڈینس للی نے جہاں بہت سارے ریکارڈ اپنے نام کیے وہیں اپنے 13 سالہ کیرئیر میں کبھی بھی نوبال کروانے کا ریکارڈ بھی انکے پاس موجود ہے۔ انہوں نے آسٹریلیا کی جانب سے 70ٹیسٹ جبکہ 63 ون ڈے میچ کھیلے انہوں نے کُل 22060 گیندیں کروائیں لیکن ایک دفعہ بھی overstep نہیں ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: کرکٹ کی دنیا میں وہ چند ایک کھلاڑی جن کو بے وقت ریٹائرمنٹ لینا پڑی

Number 1: Imran Khan
Pakistan (1971-1992)
عمران خان بلاشبہ پاکستان کی تاریخ کے بہترین کرکٹر مانے جاتے ہیں اور انہیں سر گیری سوبرز کے بعد دُنیا کا دوسرا بڑا آلراؤنڈر بھی ماناجاتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی ایک کمزور ٹیم کو ایسی ٹیم میں تبدیل کردیا جس نے دُنیا کے بڑی بڑی ٹیموں کو تگنی کا ناچ نچوایا اور پھرآخرکار 1992 میں انہوں نے پاکستان کوورلڈ کپ بھی جتوادیا۔عمران خان نے اپنے کیرئیر میں وہ وہ اعزاز حاصل کیے تھے جو ان سے پہلے کسی کے پاس نہیں تھے۔ویسے تو انکے پاس بہت سارے ایسے اعزاز موجود ہیں جو ان سے پہلے کرکٹ میں کسی اور نے نہیں حاصل کیے تھے۔لیکن اپنے 21 سالہ طویل کیرئیر عمران خان نے 88 ٹیسٹ جبکہ 175 ون ڈے میچ کھیلےجس میں انہوں نے 26919 گیندیں پھینکیں اور ایک بھی نوبال نہیں کروائی۔

آپکے خیال میں ان میں سے سب سے بہترین بولریا آلراؤنڈر کونسا تھا؟

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *