انضمام الحق نے پی سی بی کے میڈیکل یونٹ کو کھری کھری سنا دی

میرے عزیز قائرین آجکل پاکستان کرکٹ بورڈ جو مسلہ سب سے زیادہ ڈسکس ہو رہا ہے یقینا وہ کرونا وائرس کو لے کر ہو رہا ہے اور اسی حوالے سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق بلے باز اور سابق کوچ انضمام الحق نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے – بلکہ یوں کہئے کہ انھوں نے بلکل سیدھا سیدھا پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل یونٹ کو کھری کھری سنا دیں ہیں –

انضمام الحق کا کہنا ہے کہ اگر ہم بات کریں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی جن کا کرونا ٹیسٹ پازیٹو آ گیا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ میری سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ وہ کس طرح کرونا پازیٹو ہو گئے ہیں – انضمام الحق نے کہا کہ میں بھی ایک سپورٹ مین رہ چکا ہوں اور مجھے پتہ ہے کہ ایک کھلاڑی کس قدر مضبوط ہوتا ہے اور اس کا امیون سسٹم کس قدر توانا ہوتا ہے

انضمام الحق کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان ٹیم کے اندر 10 کھلاڑیوں کو کرونا ہو گیا ہے کہ تو پھر عام آدمی کدھر جائے گا – انضی بھائی نے مزید کہا کہ اس میں سرا سر میڈیکل یونٹ کی غفلت شامل ہے کیونکہ ایک کھلاڑی کا امیون سسٹم اس قدر کمزور نہیں ہو سکتا ہے کہ کرونا وائرس جیسا جراثیم ایک کرکٹ کے کھلاڑی پر اثر انداز کر جائے – اور اگر یہ واقعی سچ کہ ہمارے کھلاڑی اتنے کمزور ہیں تو پھر میں اس کے بارے میں مزید کچھ نہیں کہ سکتا

انضمام الحق نے مزید کہا کہ یہی نہیں بلکہ کوئی اور بیماری ایک کرکٹر یا کسی بھی دوسرے سپورٹ کے کھلاڑی کو ویسے نہیں لگ سکتی ہے جیسے کسی عام آدمی کو لگتی ہے اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہوتی ہے کہ اچھی خوراک اور زیادہ سے زیادہ ورزش کرنے کی وجہ سے وہ عام آدمی سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتے ہیں – لہذا مجھے اسی چیز نے پریشان کیا ہے کہ اگر ہمارے کھلاڑیوں کو بھی کرونا وائرس ہو گیا ہے تو پھر عام آدمی کا کیا بنے گا

اس کے بعد جو سب سے بڑا اعتراض انضمام الحق نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل یونٹ اور کرکٹ بورڈ کو بھی دیا ہے وہ یہ ہے کہ جس حس کھلاڑی کا کرونا پازیٹو آیا ہو ہر اس کھلاڑی کو بورڈ نے اس کے گھر بھیج دیا ہے – انضی بھائی کا کہنا تھا کہ میڈیکل یونٹ کو یہ کام نہیں کرنا چاہے تھا بلکہ ان کے لیے الگ سے کوئی انتظام کر کے بورڈ کو ان تمام کھلاڑیوں کو اپنی نگہداشت میں رکھنا چاہے تھا

کیونکہ جب کسی بھی آدمی کو کرونا پازیٹو ہو جاتا ہے تو اس کے لیے خاص قسم کی خوراک کا بندوبست کیا جاتا ہے اس بندے کی ٹریٹمنٹ بلکل مختلف طریقے سے کی جاتی ہے اور اس کا خیال دوسرے مریضوں سے ہٹ کر رکھا جاتا ہے اور سب سے بڑی بات کہ اس کو سب سے الگ کر رکے رکھا جاتا ہے

اور اس حوالے سے انضی بھائی کے خیال میں کرکٹ بورڈ کو اپنے کھلاڑیوں کی حفاظت کا ذمہ خود لینا چاہے تھا تاکہ وہ تمام پلیر جلد از جلد ٹھیک ہوتے تاکہ ان کو جلد از جلد سیریز میں واپس انگلینڈ بھیج سکتے مگر افسوس کہ کرکٹ بورڈ اور اس کے میڈیکل یونٹ کی طرف سے ایسا کھچ بھی نہیں ہوا ہے جوکہ پریشان کن ہے

 

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *