ہمیں یہ توقع بلکل بھی نہیں تھی راس ٹیلر نے پی ایس ایل کے بارے ایسی بات کر دی کہ ہم بھی حیران رہ گئے

راس ٹیلر نیوزی لینڈ کا وہ کھلاڑی جس نے شاید ہی کبھی اپنی ٹیم کو مشکل کے وقت دھوکہ دیا ہو – راس ٹیلر کا شمار دنیا کے ٹاپ کلاس کے بیٹسمنوں میں ہوتا ہے – وہ چکھے اور چوکے مارنے والے بہترین بلّے باز ہیں اور یہی نہیں بلکہ ان پر اعتماد بھی کیا جا سکتا ہے کہ اگر مشکل وقت میں پیچ پر چلے گئے ہیں تو پھر انھوں نے اپنی ٹیم کو مشکل وقت سے نکالا ہے

اگر ہم ٢٠١١ کے ورلڈ کپ کی بات کریں تو جس کھلاڑی نے شعیب اختر کی اچھی خاصی دلائی کی تھی وہ راس ٹیلر ہی تھی اگرچہ اس میں راس ٹیلر کو کامران اکمل نے 2 دفعہ کیچ نہ پکڑ کر اس موقع دیا تھا کہ وہ اس دن سنچری سکور کر لیں بہرحال راس ٹیلر میں یہ قابلیت تھی تو انھوں نے اتنا سکور کیا – اس کے علاوہ بھی اور بہت سی جگہ پر راس ٹیلر نے اپنی ٹیم کو کندھا دیا

اگر ہم بات کریں ٢٠١٩ کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کی جوکہ انڈیا کے خلاف کھیلا گیا تھا اس میچ میں میں نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کی تھی اور اس دن پچ بہت خطرناک تھی – نیوزی لینڈ کے پہلا کھلاڑی بہت جلد آوٹ ہو گیا تھا اور اس کے بعد نیوزی لینڈ کے کپتان نے آ کر سہارا دیا – پھر ایک اور کھلاڑی آوٹ ہو گیا – اس میچ میں بھی راس ٹیلر نے 3 7 رنز سکور کیا تھا جوکہ نیوزی لینڈ ٹیم کے لیے ایک ٹرننگ پائنٹ تھا اگر راس ٹیلر وہاں پر یہ سکور نہ کرتے تو پھر نیوزی لینڈ وہ میچ ہار چکی تھی

حال ہی میں نیوزی لینڈ کے اس مایہ ناز بلے باز سے پی ایس ایل کے بارے  میں پوچھا گیا کہ کیا وہ اس میں شرکت کرنا چاہتے ہیں تو اس کے سوال پر انھوں نے جواب دیا کہ اگر ان کو پی ایس ایل کے آفیشلز سے اس بارے میں آفر آئے گی تو وہ ضرور اس میں شامل ہونا چاہیے گے – ایک سوال کے کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ان کے ساتھی لیوک رونکی بھی پی ایس ایل کھیل چکے ہیں اور وہ کافی مشھور بھی ہو چکے ہیں لہذا وہ بھی چاہیے گے کہ اگر ان کو پی ایس ایل کی طرف سے کھیلنے کی آفر ہو تو وہ بھی یہ ایونٹ ضرور کھیلیں

راس ٹیلر نے مزید کہا کہ لیوک کو پی ایس ایل کھیلنے میں بہت مزہ آتا ہے اس کی میرے سے اس بارے میں بات بھی ہوتی ہے – اور یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ وہ پاکستان کی لوکل کمیونٹی میں بھی بہت مشھور ہو چکے ہیں – راس نے مزید کہا کہ ان کے محسوس ہوتا ہے کہ اب ان کی کرکٹ تھوڑی ہی رہ گئے ہے اور اب وہ چاہتے ہیں کہ وہ جو بھی کھیلیں اچھے طریقے سے کھیلے اور اس کو تاریخ کا حصہ بنا کر جائیں –

مزید پڑھیں: حفیظ نے رپورٹ شیئر کرکے سارے ملک کو ذلیل کروا دیا – دیکھیں غیر ملکی کرکٹرز کیا کہ رہے ہیں

انھوں نے مزید کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ اب زیادہ سے زیادہ ٹی ٹوینٹی لیگز کھیلیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ کھیل سکیں اور کسی بھی قسم کی انجری سے محفوظ رہیں – ٹی ٹوینٹی لیگ کھیلنے سے کھلاڑی کا کیریئر لمبا ہو جاتا ہے کیونکہ اس میں کرکٹ بہت زیادہ نہیں ہوتی ہے بلکہ تھوڑی ہوتی ہے اس کے برعکس ٹیسٹ کرکٹ یا پھر ون ڈے کرکٹ بہت زیادہ مشکل ہوتی ہے – یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے محمّد عامر نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی ہے

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *