ان کھلاڑیوں نے بکیز سے لاکھوں روپے لیے اور مجھکو انکار کرنے پر سائیڈ پر لگا دیا گیا -عاقب جاوید

کبھی کبھی تو ایسے لگتا ہے کہ پاکستان کرکٹ کے اندر کرپشن کا وجود اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ کرکٹ کا کھیل – جس دور میں بھی کرکٹ کی بات کریں اسی دور میں کوئی نہ کوئی کیس ایسا نکل آتا ہے جس کا تعلق برائے راست کرپشن سے ہوتا ہے اور اس سے بھی مزے دار بات یہ ہے کہ کوئی کھلاڑی اس کے انجام کے بارے میں نہیں بتاتا ہے کیونکہ وہ بہت طاقتور ہوتے ہیں – ابتک جتنے بھی کرپشن کے کیسز میڈیا میں آ چکے ہیں ان سب پر بہت کچھ کیا گیا مگر وہ صرف کاغذی کروائی تک محدود تھا

اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ورلڈ کپ ١٩٩٩ میں جسٹس قیّم رپورٹ کے اندر بڑے واضح الفاظ میں ان تمام کھلاڑیوں کے بان تک بتا دئیے ہیں جوکہ کرپشن کے اندر برائے راست موجود تھے مگر آج تک ان کو بھی کوئی سزا نہیں ملی ہے سزا تو دور کی بات ہے اس کو کبھی کسی نے یہ احساس نہیں دلوایا ہے کہ وہ ملک اور قوم کے مجرم ہیں اور اس سے بڑھکر یہ کہ ان کو ٹی وی بلایا جاتا اور ان سے ٹاک شوز بھی کروائے جاتے ہیں

اب عاقب جاوید کی ہی بات کر لیں ان کو بھی سیاست کا نشانہ بنایا گیا تھا اور یہ کھبی بھی کرکٹ ٹیم کے اندر مستقل بنیادوں پر نہیں کھیل سکیں ہیں- اگر آپ ان کا ٹریک ریکارڈ چیک کریں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ وہ کس قدر اچھے بولر اور کرکٹر تھے – اگر کسی بولر کو سلو بال ایجاد کرنے کا ایوارڈ دیا جائے تو عاقب جاوید تھے جنہوں نے کرکٹ کے اندر سلو ڈیلیوری کو متعارف کروایا اور اس کے علاوہ ١٩٩٢ کا ورلڈ کپ جتوانے میں ان کا بھی ایک اہم کردار تھا

عاقب جاوید کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ جب کوئی کھلاڑی سیٹ ہو جاتا تھا اور وہ آوٹ نہیں ہو رہا ہوتا تھا تو پھر کپتان ان کو بلاتا تھا اور عاقب جاوید وہ وکٹ نکال کر دیتے تھے – اس کے علاوہ عاقب جاوید ایک اور بہترین ریکارڈ کے حامل ہیں انہوں نے ایک میچ 7 وکٹس بھی لے رکھیں ہیں اور وہ بھی کسی عام ٹیم کے خلاف نہیں بلکہ انڈیا کے خلاف اور وہ بھی شارجہ کے گراؤنڈ میں – عاقب جاوید بلا شبہ ایک بہت اچھے کھلاڑی اور بولر تھے مگر ان کو کرپشن کی نظر کر دیا گیا

مزید پڑھیں: بریکنگ نیوز: دورہ انگلینڈ پر جانے والے کھلاڑیوں میں سے 3 کھلاڑی کا کرونا ٹیسٹ مثبت آ گیا

اپنے ایک انٹرویو نے بڑا واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ان کے سامنے ایک بہت مہھور کھلاڑی نے بکیز سے لاکھوں روپے بھی وصول کیے اور اس کے ساتھ تحفہ میں گاڑی بھی لی اور اس کے بعد یہی چیزیں اس نے ان کو بھی پیش کیں مگر انہوں  نے اس کو قبولل کرنے سے انکار کر دیا اور اس کے نیتجے میں ان کے ساتھ کیا ہوا وہ میں نے آپ کو پہلے بتا ہے دیا ہے – یہ پہلی دفعہ نہیں ہے جب عاقب جاوید اس طرح مدی پر آ کر اس بات کا رونا روتے ہیں یہ پہلی بھی کئی دفعہ ہو چکا ہے مگر یہاں تو ایسے لگتا ہے کہ ساری کی ساری دنیا ہی اس کام میں ملوث ہو چکی ہے

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *