انڈین جھوٹا چہرہ ایک دفعہ پھر بے نقاب – آئی سی سی سے ایسی خبر آئی کہ انڈین کرکٹ بورڈ خود تلملا اٹھا

کہا یہ جا رہا ہے کہ 3 1 0 2 کے آئی پی ایل کے دوران جو کرپشن کے کیسز سامنے آئے تھے وہ بہت زیادہ ہولناک تھے اور کچھ آفیشلز کے یہ بھی کہنا تھا کہ اب بکیز اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ وہ اب کھلاڑیوں کو ٹارگٹ نہیں کریں گے بلکہ مختلف ریاستی لیگز کو ٹارگٹ کریں گے تاکہ بڑے پیمانے پر کھلاڑیوں کو کنٹرول میں کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ پیسہ بنایا جائے – جی ہاں اس سے ایک یہ فائندہ ہوتا ہے کہ آپ صرف لیگ کے صرف مالک کو رضا مند کرتے ہو اور صرف اسی کو پیسے دینے پڑتے ہیں باقی سارا معاملہ لیگ کا مالک خود دیکھ لیتا ہے

اور پھر اس طرح بکیز کو ایک ایک کھلاڑی کے ترلے منتیں نہیں کرنا پڑتی ہیں – دوسرے لفظوں میں چھوٹے لیول پر کام کر کے بڑے لیول کا منافع کمایا جاتا ہے – انڈین کرکٹ کونسل کے ایک انٹی کرپشن کے آفیشلز نے یہ سوال اٹھا کہ کیا 3 1 0 2 کے کرپشن کیسز جن میں زیادہ تر سپاٹ فکسنگ تھی اس حوالے کچھ تسلی بخش رپورٹ ہمیں ملی ہے تو اس کے جواب نہیں میں سب نے سر ہلا دئیے – یہ بات انڈین کرکٹ بورڈ کے انٹی کرپشن یونٹ کے افسر کی ہو رہی ہے

میرے عزیز قائرین آئی سی سی نے  ایک تازہ ترین رپورٹ مرتب کی ہے جوکہ پوری دنیا میں کرکٹ پر ہونے والے جوئے اور کرپشن کے کیسز کے متعلق ہے – اس رپورٹ میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ اس رپورٹ میں کے ٹوٹل 0 5 کیسز میں سے زیادہ تر کیسز کے معاملات انڈیا سے جا ملتے ہیں – یعنی کہ اس وقت انڈین کرکٹ بورڈ کرپشن اور جوئے کے حوالے سے پوری دنیا میں پہلے نمبر پر آ چکا ہے اور اس سے بھی زیادہ حیرت والی بات یہ ہے کہ اس کو بھڑھاوا دینے والے بھی یہ لوگ خود تھے اور اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ اب یہ بکیز لوگ ان سے زیادہ اثرو رسوخ والے ہو چکے ہیں اور اب ان کے لیے درد سر بن گئے ہیں

سٹیو رچرڈ سن جوکہ ای سی سی کے انٹی کرپشن یونٹ کے ایک آفیسر ہیں انھوں نے ایک ہفتہ کے روز ایک کانفرنس کے دوران یہ بات بتائی کہ ہمارے پاس تقریبا 50 کے قریب کیسز ہیں اور حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کیسز کے تانے بانے انڈیا سے ہی مل رہے ہیں – یہ بات بس یہیں پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ سٹیو کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ 8 ایسے لوگوں کے نام بھی بتا سکتا جوکہ عادی مجرم ہیں اور انھوں نے مزید کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ کرکٹرز اور کرکٹ بورڈ کے آفیشلز کے ساتھ رابطے میں رہنے کی کوشش میں رہتے ہیں

سٹیو رچرڈ سن نے مزید کہا کہ اگر ہم سب لوگ یہ چاہتے ہیں کہ پوری دنیا کی کرکٹ سے کرپشن کا خاتمہ ہو جائے تو اس کے لیے ایک بڑے لیول پر قانون سازی کی ضرورت ہے اور پھر جا کر ان بکیز اور جوئے بازوں کی کمر توڑی جا سکتی ہے – یہ بات یہی پر ختم ہوتی ہوئی نظر نہیں آ رہی ہے خود انڈین کرکٹ بورڈ کے انٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ جن کا نام اجیت سنگھ ہے  کا کہنا ہے کہ وہ خود اس چیز کے گواہ ہیں کہ یہاں پر ہر سال 30 سے 40 ہزار کروڑ روپے جوئے کی نظر ہوتے ہیں

اور اس کے ساتھ ساتھ اجیت سنگھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس معاملہ میں پورے انڈین کرکٹ بوڈ میں کوئی بھی کھلاڑی ، آفیشلز، معاون اور اس کے ساتھ ساتھ مختلف فرانچزیز کے مالکان سب اس گورکھ دھندے میں شامل ہو چکے ہیں اور سب کے سب بکیز کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں – اس کے علاوہ کہا یہ جا رہا ہے کہ ایک ویڈیو سیشن کے دوران سٹیو رچرڈ سن نے کہا کہ اس وقت تو کوئی بھی بڑا انڈین کھلاڑی ہمارے ریڈار میں نہیں ہے البتہ اگر ہم نچلی سطح پر دیکھیں تو ہمیں بہت سارے بکیز اور کھلاڑی نظر آئیں گے جو اس کام میں دن رات لگے ہوئے ہیں

مزید پڑھیں: سرفراز احمد کی وجہ سے ڈریسنگ روم کا ماحول خراب ہو سکتا ہے – انضی بھائی نے خبر دار کر دیا

سٹیو رچرڈ سن نے مزید کہا کہ یہ بکیز کہیں پر بھی اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیتے ہیں اور اکثر ڈومیسٹک لیول پر بھی یہ لوگ کھلاڑیوں کے نہیں چھوڑتے ہیں اور ان چھوٹے بچوں کو اپنے مقاصد کیلیے استعمال کرنے سے باز نہیں آتے ہیں – انہوں نے مزید کہا کہ یہ اصل میں یہ بکیز بھی استعمال ہو رہے ہیں اصل لوگ تو پیچھے بھیٹھے جو جب چاہتے ہیں میچ کا پانسہ بدلوا دیتے ہیں – سٹیو کا کہنا ہے اگر آئی سی سی چاہتی ہے کہ کرکٹ جیسے کھیل کو جوئے سے پاک کیا جائے تو اس کے لیے سخت سے سخت قانون سازی کی جائے اور مجروموں کو قرار واقعی سزا دی جائے

دوستو آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں کہ انڈیا واقعی ہی جوئے کا سر گنا بنا ہوا ہے اور وہ جب چاہتا ہے اپنی مرضی کی ٹیم کو جتوا لیتا ہے – آپ کمنٹ میں اپنی رائے ضرور دیں اور اس پوسٹ کو بھی زیادہ سے زیادہ شیئر ضرور کریں تاکہ پوری دنیا کو انڈیا کرکٹ بوڈ کی اصلیت کا پتہ چلے شکریہ

 

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *