کرکٹ ہسٹری میں 10 ایسے ٹاپ کلاس بیٹسمن جو گیند کو چھوڑتے ہوئے بولڈ ہو گئے

کرکٹ میں خوبصورت شاٹس، زبردست چھکے اور ناقابل یقین یارکرز تو آپ نے دیکھے ہونگے لیکن آج اس ویڈیو میں ہم آپکو کچھ ایسے مناظر دکھائیں گے جس میں کھلاڑیوں نے کچھ ایسی deliveries کو leave کردیا یعنی چھوڑ دیا جو آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا۔ اس ویڈیو میں ہم نے ایسی کوئی delivery شامل نہیں کی جب بیٹسمین نے گیند کو باہرجاتا دیکھ کر چھوڑ دیا، گیند سوئنگ ہوئی اور وکٹوں میں ہی جاگھُسی کیونکہ وہاں پہ بیٹسمین کی غلطی کی بجائے بولر کی کمال زیادہ ہے۔

ویڈیو میں آگے جانے سے پہلے اگرآپ نے ابھی تک ہمارا یہ چینل سبسکرائب نہیں کیا تو چینل سبسکرائب کرلیں اور ساتھ موجود گھنٹی کے بٹن کو دبادیں۔

Number 10:

مائیکل کلارک آسٹریلیا کے ورلڈ کپ ونر کپتانوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی ٹیم کو 2015 کے ورلڈ کپ میں کامیابی دلوائی لیکن ورلڈ کپ 2007 میں مائیکل کلارک نے ایک ایسی گیند کو کھیلنے کی بجائے چھوڑا تھا جو کہ سیدھی وکٹوں میں آرہی تھی۔ انکی یہ leave کرکٹ کی تاریخ کی بدترین leaves میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔

Number 9:

شعیب اختر بلاشبہ ناصرف دُنیا کے تیز ترین بولر تھے شاید وہ واحد بولر ہیں جس سے شاید دُنیا کے سارے بڑے کھلاڑی اپنے کیرئیر میں کہیں نا کہیں ڈرے ضرورہیں ۔ لیکن بریڈ ہیڈن اس ڈر کو ایک نئے لیول پہ لے گئے جب 2005 میں آسٹریلیا A کی جانب سے کھیلتے ہوئے ہیڈن اختر سے اس قدرڈرگئے کہ فری ہٹ ہونے کے باوجود وکٹوں کے پیچھے جا کر کھیلنے کی کوشش کی۔ اسے شاید کرکٹ کی تاریخ کی بدترین Leave کہا جائے تو غلط نا ہوگا۔
Number 8:

بعض دفعہ کچھ بڑے کھلاڑی بھی ایسی غلطیاں کرتے ہیں کہ دیکھ کر یقین نہیں آتا۔ 2009 میں ساؤتھ افریقہ کیخلاف انگلینڈ کے آئن بیل نے ایسی گیند چھوڑی کہ کچھ دیر کیلئے انکو خود کو بھی یقین نہیں آیا کہ انہوں نے کیا کردیا ہے کیونکہ پال ہیرس عموماً سیدھی گیندیں پھینکا کرتے تھے اور اس گیند کو چھوڑنے کا مطلب تھا خود گیند کو دعوت دینا۔
Number 7:

ہرشل گبزکا کیرئیر ہمیشہ سے ہی تنازعات کا شکار رہا تھا لیکن یہ ایک ڈلیوری جو انہوں نے آسٹریلیا کیخلاف چھوڑی نا تو کسی تنازعہ کا حصہ بنی نا ہی میچ فکسنگ میں شمار کی گئی لیکن انہوں نے گیند کچھ اس انداز میں چھوڑی کہ دیکھنے والے کو یقین نہیں آتا ہے کہ اس caliber کا بیٹسمین اس level کی گیند بھی چھوڑ سکتا ہے۔
Number 6:

شین وارن یوں تواپنی سپن کے ذریعے سے کچھ ایسی وکٹیں حاصل کرچکے جس پہ یقین کرنا تقریباً ناممکن ہے لیکن ۱۹۹۷ کی ایشیز کے چھٹے میچ میں انہیں ایک وکٹ اس قدر آسانی سے ملی جس کا شاید انہیں بھی یقین نا آتا ہو۔ انگلینڈ کے کھلاڑی ایڈم ہولئیک نے سیدھی وکٹوں میں جاتی گیند کو دیکھنے کے باوجود چھوڑ دیا اور کھڑے منہ دیکھتے رہ گئے۔
Number 5:

دُنیا کے خطرناک ترین ہٹرز میں شما ر ہونے والے میکسویل کی یہ leave کرکٹ کی بدترین leaves میں سے ایک شمار کی جاتی ہے۔ 2014 کے بگ بیش لیگ کے دوران میکسویل نے اپنی پہلی ہی گیند کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا لیکن وہ فیصلہ اس قدر غلط ثابت ہوا کہ کرکٹ کی کتابوں میں بدترین leave میں شمار ہوگیا۔
Number 4:

اکثر کچھ ایسے بلے بازوں سے کچھ ایسی غلطیاں ہوجاتی ہیں جن کے بارے میں ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ ایسی ہی ایک غلطی ہاشم آملہ ۲۰۱۵ میں نے انڈیا کیخلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں کی جب انہوں نے جدیجہ کی سیدھی آتی ہوئی گیند جو دیکھنے کے باوجود وکٹوں میں جانے کی اجازت دیدی۔ اسکو ہاشم آملہ کی کرکٹ کی بدترین وکٹ کہا جاتا ہے۔

Number 3:

عام طور پہ اگر کسی کھلاڑی نے 50 سے 60 گیندیں کھیل لی ہوں تو وہ پچ کو مکمل طور پہ سمجھ چُکا ہوتا ہے اور نظریں جم چُکی ہوتی ہیں۔ لیکن 2008 میں ساؤتھ افریقہ کے اوپنر نیل میکنزی کی نظریں شاید صحیح طرح نہیں جمی تھیں جو انہوں نے ایک بالکل سیدھا آتے یارکر کو فل ٹاس سمجھا اور ڈر کر چھوڑ دیا۔
Number 2:

ساؤتھ افریقہ اور انگلینڈ کے درمیان اسی تیسرے ٹیسٹ میچ کے دوران فلنٹوف نے کیلس کو بھی کچھ اسی انداز میں آؤٹ کیا جس انداز میں میکنزی کو کیا تھا۔ سیدھی فل ٹاس جاتی گیند سے کیلس ایک دم اس قدر ڈرے کہ انہوں نے اپنا منہ بچانے کی کوشش کی جبکہ وہ گیند انکی تھائیز سے بھی نیچے جالگی۔ کیلس اس گیند پہ بہت زیادہ غصہ بھی ہوئے لیکن بعد میں اس گیند کو بدترین leaves میں شمار کیا جانے لگا۔

Number 1:
بعض دفعہ بلے باز بولرکے ڈر میں اس قدر مبتلا ہوتے ہیں کہ گیند کو کھیلنا تو دور گیند کے قریب جانا بھی پسند نہیں کرتے۔ ایسا ہی آسٹریلیا کے ڈومیسٹک ون ڈے کپ میں دیکھنے کو ملا جب گرانٹ لیمبرٹ نے شان ٹیٹ کی ایک سیدھی جاتی گیند پہ ناصرف وکٹیں چھوڑیں بلکہ گیند کی طرف بلا لیجانے کی زخمت کرنا بھی گوارا نا سمجھا۔

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *