کپتانی اس کا وہ حال کریگی جس کا اس نے سوچا بھی نہ ہو گا

کپتانی اس کا وہ حال کریگی جس کا اس نے سوچا بھی نہ ہو گا – جی ہاں دوستو یہ الفاظ ہیں سبق پاکستانی کرکٹ کوچ گرانٹ فلاور کے جو کہ کافی عرصہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ رہ چکے ہیں -انہوں نے بڑے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ کہ بابر اعظم کو اپنے کپتانی قبول کرنے والے  فیصلے پر پچھتانا بھی پڑ سکتا ہے کیوںکہ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے

سابق پاکستانی کرکٹ کوچ کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں نہیں کہ بابر اعظم ایک ینگ اور تلنٹڈ کرکٹر ہے اور اس جیسے پلیر کو اسی عمر سے ایسی ذمّ داریاں دینی چاہیے مگر پاکستان جیسے ملک میں اس فیصلہ الٹ بھی پڑ سکتا ہے -انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم دوسرے ممالک کی کرکٹ کو دیکھیں تو وہاں کھلاڑیوں پر ہار جیت کا اس قدر دباؤ نہیں ہے  جتنا دباؤ پاکستان اور انڈیا کی ٹیموں پر ہوتا ہے

انہوں نے مزید کہا کہ اگر میچ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہو جائے پھر تو آپ کچھ بھی نہیں کہ سکتے ہیں کہ اگلے دن کیا ہونے والا ہے یا تو آپ کو سر پر اتا لیا جائے گا یا پھر آپ کو زمین پر لٹا لیا جائے گا – لہذا ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے بابر اعظم کو مشورہ دیا ہے کہ اب ان کو اپنی گیم پر بہت توجہ دینی پڑے گی

مزید پڑھیں : سیاست میں آؤں گا یا نہیں —-آفریدی نے دبنگ اعلان کر دیا

سابق پاکستانی کرکٹ کوچ نے مزید کہا کہ گیم کے دباؤ کے علاوہ پاکستانی کرکٹ ٹیم میں سیاست بہت ہوتی ہے جس کا آج تک کوئی بندوبست نہیں کیا گیا ہے اس سیاست کی وجہ سے بہت سارے کھلاڑی برباد ہوئے ہیں اور وہ دوبارہ کبھی کھیل کے میدان میں نہیں ا سکے ہیں -اگر آپ دیکھیں تو محمّد یوسف نے جب کرکٹ کو خیر باد کہا تو وہ اس وقت کپتان کا مزہ چکھ کر ہی گئے تھے اور اس کے بعد وہ کرکٹ ٹیم میں اپنی جگہ نہ بنا سکے تھے

مزید یہ کہ کپتان کے اوپر ایک خاص قسم کا دباؤ ہوتا ہے کیونکہ کپتان بننے کے بعد اس نے نہ صرف اپنی گیم کو دیکھنا ہوتا ہے بلکہ اس نے اپنی ساری ٹیم کو لیکر چلنا ہوتا ہے جوکہ ایک آسان کام نہیں ہے -اس کے علاوہ آجکل کے دور میں  کپتان کے اندر میڈیا مینجمنٹ اور پلیر مینجمنٹ کے گن ضرور ہونا چاہیے اگر اس خصوصیات کسی کپتان کے اندر نہیں ہیں تو پھر پاکستان جیسے ملک میں اس کے لیے لمبے عرصے کیلیے چلتا بہت مشکل ہوتا ہے

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *