کاش کوہلی میرے دور میں ——–شعیب نے دل کی بات کہ ڈالی

لاہور: پچھلے دنوں شعیب اختر سابق انڈین کرکٹر سنجے منجریکر کو انٹرویو دے رہے تھے اور اس وقت انہوں نے کہا کہ اگر ویرات کوہلی ان کے دور میں کرکٹ کھیل رہے ہوتے تو وہ کوہلی کے خلاف کیا حکمت عملی اختیار کرتے -ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے جب کسی انڈین کرکٹر  نے خاص کر انٹرویو کے دوران کسی پاکستانی لجینڈ بولر سے ایسا سوال کیا ہو

اس سے پہلے یہی سوال ایک اور انڈین سابق ٹیسٹ کرکٹر نے ایک انٹرویو کے دوران وسیم اکرم سے بھی پوچھا تھا – اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کوہلی حقیقت میں ہی بہت اچھا کھلاڑی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بہت اچھا سپورٹ مین کا بھی مظاہرہ کرتا ہے مگر دوسرے انڈین کرکٹرز خاص کر سابق انڈین کرکٹرز اس چیز کو بہت زیادہ کیش کروانے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں

اگر دیکھا جائے تو پاکستان کے پاس بھی ایسے بہت سارے کرکٹرز ہیں جن کا کوئی ثانی نہیں ہے نہ سرف پاکستان بلکہ اور دوسرے ملکوں میں بھی بہت سارے کرکٹ لجینڈ ہیں جن کی ایک لمبی فہرست ہے مگر انڈین کچھ زیادہ ہی اپنے کرکٹرز کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں -پچھلے سال ورلڈ کپ سے پہلےلندن میں  انہوں نے اپنے ٹنڈولکر کے بارے مختلف کرکٹرز کو بلا کر بہت زیادہ ڈھنڈورا پیتا کہ اس سے اچھا کوئی کھلاڑی کرکٹ کی دنیا میں نہیں آیا

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جس میچ میں ٹنڈولکر 100 بنا لیتے  تھے انڈیا وہ میچ ہار جاتا تھا – خیر سنجے کے جواب پر شعیب اختر نے جواب دیا کہ وہ یقینا کوہلی کو نفسیاتی طریقے سے دباؤ میں لاتے اور اپنی تیز بولنگ کو استمال کرتے ہوئے وہ کوہلی کو کٹ شارٹس اور پل کرنے پر مجبور کرتے اس کے علاوہ شعیب اختر نے مزید کہا کہ وہ اس کو آگے بولنگ کرنے کے حق میں ہوتے تاکہ کوہلی کو ڈرائیو کرنے پر مجبور کرتے

اس کے علاوہ شعیب نے کہا کہ وہ یقینا کوہلی کے ساتھ سلجنگ کرتے تاکہ کوہلی اپنا دھیان کھیل پر نہ دے سکے اور اس طرح وہ کوہلی کو غلط شارٹ کھیلنے پر مجبور کرتے

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *