کرکٹ کی تاریخ کی 10 سب سے بڑی سوئنگ ڈلیوریز

وسیم اکرم، محمد عامر، جیمز اینڈرسن، ڈیل اسٹین، محمد آصف اور ان جیسے کچھ اور
بولرز کا نام لیا جائے تو ہمارے ذہن میں  کچھ ایسی سوئنگنگ ڈلیویرز آتی ہیں جو
انکے علاوہ کرکٹ میں کوئی اور نہیں کرواسکا۔ اور انہی بولرز کو کرکٹ کی
تاریخ کے خطرناک بولرز میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔ آج ہم آپکو 10 ایسی ڈلیوریز
کے بارے میں بتائیں گے جنہیں کرکٹ کی تاریخ کی سب سے خطرناک سوئنگنگ
ڈلیوریز مانا جاتا ہے۔
نمبر : 10
اینڈریو فلنٹوف کو انگلینڈ کے بہترین آلراؤنڈرز میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ڈلیوری انکے
آخری ٹیسٹ میچ کی ہے جس میں انہوں نے 5 وکٹیں حاصل کی اور اپنی ٹیم کو میچ
جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 2009 کی ایشیز میں فلنٹوف کی یہ ڈلیوری تقریباً 1 فٹ
کے قریب اندر آئی کھلاڑی کے پاس اسکو روکنے کا زرا برابر بھی موقع موجود نہیں
تھا۔ یہ ہماری فہرست میں دسویں نمبر پہ آتی ہے۔
نمبر : 09
اس فہرست میں نویں نمبر پہ بھونیشور کمار کی ویسٹ انڈیز کیخلاف ایک ٹیسٹ
میچ میں کروائی گئی یہ گیند ہے۔ جو پچ پہ لگنے کے بعد تقریبا ایک فٹ تک اندر
کی جانب آئی ۔ یہ اس قدر خطرناک بول تھی کہ کریز پہ مکمل طور پہ سیٹ بلے
باز مارلن سیموئیلز کو بھی سمجھ نا آئی اور وہ اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔
نمبر : 08
آٹھویں نمبر پہ موجود اس گیند کو ڈیل اسٹین کے کرئیر کی سب سے بہترین ڈلیویرز
میں سے ایک مانا جاتا ہے ۔ انڈیا کیخلاف ایک ٹیسٹ میچ میں بالاجی کیخلاف
کروائی گئی یہ گیند اگر کسی بھی اعلی پائے کے بلے باز کیخلاف بھی کروائی
جاتی تو اسکے لیے بچنا شاید ناممکن تھا۔ لیگ وکٹ پہ پچ ہوئی یہ گیند اتنی زیادہ
سوئنگ ہوئی کہ کیپر نے تقریباً پہلی سلپ کے پاس سے پکڑی۔
نمبر : 07
عرفان پٹھان کی 2006 کے ٹیسٹ میچ میں کروائی گئی یہ گیند شاید انڈین بولر کی
جانب سےکروائی گئی اب تک کی سب سے بڑی سوئنگ ڈلیوری سمجھی جا سکتی
ہے۔ محمد یوسف جیسے مایہ ناز بولر کو پہلی ہی گیند پہ آؤٹ کرکے ہیٹ ٹرک
مکمل کرنے والے عرفان پٹھان بھی ایک لمحے کیلئے تقریباً ہکا بکا رہ گئے تھے
کہ انہوں نے یہ کیا کروادیا ہے۔
نمبر : 06
بلاشبہ ظہیر خان انڈین کرکٹ کا سب سے بہترین بولرسمجھا جاتا ہے اور ایک وقت
ایسا تھا جب انہیں انڈیا کا وسیم اکرم کہاجاتا تھا۔ انکی سوئنگنگ ڈلیوریز  کا اندازہ
آپ صرف اس گیند سے لگاسکتے ہیں جسے ظہیر خان کے کیرئیر کی سب سے
بڑی سوئنگ ڈلیوری مانا جاتا ہے۔ مچل جانسن کے خواب بھی نہیں تھا کہ گیند اتنی
اندر آئے گی اور وکٹوں کو یوں اُڑا کر لے جائے گی۔
نمبر : 05
سوئنگنگ ڈلیوریز کی بات ہو اور انگلینڈ کے جیمز اینڈرسن کی بات نا ہو ایسا
ممکن نہیں ہے۔  ویسے تو جیمز اینڈرسن کی بہت زیادہ ڈلیوریزایسی ہیں جنکو
اس فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے لیکن ہم نے ایک ایسی ڈلیوری کو شامل کیا
ہے جو ہمارے خیال کے مطابق سب سے بہترین تھی۔ کیونکہ اس میں ریورس
سوئنگ اور سیم دونوں شامل تھے۔ آپ یہ ویڈیو دیکھیں اور خود فیصلہ کریں۔
نمبر : 04
کہا جاتا ہے کہ اگر محمدآصف فکسنگ کی غلطی نا کرتے تو پاکستان کی تاریخ
کے بہترین بولرز میں شاید سب سے اوپر پہنچ جاتے ۔ وسیم اکرم نے بعد اگر بلے
بازوں کی جانب سے سب سے زیادہ خطرناک بولرز کا ووٹ دیا گیا تو واحد
محمدآصف ہی تھے۔ اپنی کم رفتار کے باوجود آصف کی ڈلیوریز اتنی خطرناک
تھیں کہ ڈویلیرز، ٹنڈولکر، ڈریوڈ سمیت بڑے بڑے بلے باز بھی انکے سامنے
سنبھل نا سکے۔ آصف کی یہ ڈلیوری اسکا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔ اور یہ ہماری
فہرست میں چوتھے نمبر پہ آتی ہے۔
نمبر : 03
عامر کو اس وقت پاکستان کا سب سے بہترین بولرماناجا تا ہے اور اس میں کسی
قسم کا شک بھی نہیں ہے۔ عامر نے اپنی بولنگ پرفارمنس سے بڑے بڑے کو
تگنی کا ناچ نچوایا ہے۔ ایسیکس کاؤنٹ کرکٹ کلب کے خلاف کروائی گئی عامر
کی اس ڈلیوری کو عامر کی بولنگ کی اب تک کی سب سے بہترین  گیند مانا
جاتا ہے۔ تقریباً آف سائیڈ کی وائیڈ پہ پھینکی گئی یہ گیند ٹپا لگنے کے بعد سیدھا
وکٹ پہ جالگی۔
نمبر : 02
وسیم اکرم کو سوئنگ کا سلطان ایسے ہی نہیں کہاجاتا۔ انکے دور کا شاید ہی کوئی
ایسا بیٹسمین ہو جس نے اکرم کو دنیا کا خطرناک ترین بولر نا قرار دیا ہو۔ 1992
میں ورلڈ کپ فائنل میں وسیم اکرم کا ہی ایک اوور ایسا تھا جسے پاکستان کی فتح
کی وجہ کہا جاتا ہے۔ انگلینڈ کو جیت کیلئے صرف 104 رنز کی ضرورت تھی
اور انکی 6 وکٹیں باقی تھیں۔ اکرم نے دو گیندوں پہ دوکٹیں حاصل کرکے انگلینڈ
کی بیٹنگ لائن کو تباہ کردیا۔ دوسری حاصل کردہ وکٹ ایسی ڈلیوری پہ تھی جس
کو اب تک کی تاریخ کی سب سے valuable delivery مانا جاتا ہے۔
نمبر : 01
ویسے تو انور علی پاکستان کرکٹ میں کوئی بڑا نام نہیں کما سکے لیکن انکی ایک
ڈلیوری اس قدر یادگار اور valuable تھی کہ اسے ہماری فہرست میں پہلے نمبرپہ
رکھا جارہا ہے۔ پورے  Under 19 ورلڈ کپ میں فارم میں رہنے والے روہت شرما
کیخلاف یہ ڈلیوری اتنی زیادہ سوئنگ ہوئی کہ شاید ہی کرکٹ میں اتنی بڑی سوئنگ
دیکھی گئی ہو۔ اور کہا جاتا ہے کہ اسی ایک ڈلیوری کی وجہ سے پاکستان 2006
کے ورلڈ کپ فائنل میں فاتح رہا۔


دوستو آپکےخیال کے مطابق کونسی ڈلیوری سب سے بہترتھی اور انکے علاوہ ایسی
کونسی ڈلیوری ہے جسے اس فہرست میں ہونا چاہئیے تھا۔ کمنٹ میں اپنی رائے کا
اظہار ضرور کریں۔

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *