کرکٹ کی تاریخ کے 10 خطرناک ترین بونسرز

فاسٹ بولرز اور بونسرز۔ یہ ایک ایسا چولی دامن کا ساتھ ہے جو کرکٹ سے آغاز سے لے کر اب تک دیکھا جاتا رہا ہے۔ لیکن بعض دفعہ یہ بونسرز اس قدر خطرناک بھی ہوجاتے ہیں کہ کھلاڑیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ کرکٹ کی 150 سالہ تاریخ میں بہت سارے بولرز ایسے آئے ہیں جن کو سامنے دیکھ کر ہی اکثر بیٹسمینوں کی ٹانگیں کانپنا شروع ہوجاتی تھیں کیونکہ جب رفتار کے ساتھ بونسر آپکی جانب آرہا ہو تو آپکے پاس بہت کم وقت ہوتا ہے خود کو بچانے کا۔ آج  ہم آپکو کچھ ایسے بونسرز دکھائیںگے جنہوں نے کھلاڑیوں کو ناصرف زخمی کیا بلکہ گراؤنڈ سے ہی باہر بھیج دیا۔

اس فہرست میں دسویں نمبر پہ دنیا کے طویل القامت بولر محمدعرفان کا زمبابوے کے خلاف ایک شاندار بونسر ہے۔ 2015 میں زمبابوے کے دورہ کے دوران محمدعرفان کے اس بونسر نے ایک لمحے کیلئے زمبابوے کے ساتھ ساتھ پاکستانی کھلاڑیوں کو بھی پریشان کردیا تھا۔ بونسر لگنے کے بعد زمبابوے کے کھلاڑی کے سر سے ہیلمٹ دور جاگرا اور وہ خود زمین پہ سیدھا لیٹ گیا۔ اسکے گرنے کے انداز سے ایسا لگا جیسے کافی زیادہ چوٹ آئی ہوگی لیکن بچت ہوگئی اور صرف سرپہ ہلکی سی چوٹ لگی۔

اگرہم بونسرز کی بات کررہے ہوں تو بریٹ لی کا نام ضرور آئیگا۔ بریٹ لی کا چندرپال کے خلاف اس بونسر نے ایک لمحے کیلئے تو بریٹ لی کو بھی پریشان کردیا تھا کیونکہ جیسے ہی چندرپال کو بونسر لگا وہ ایک دم زمین پہ جاگرے اور کافی دیر کیلئے بے سدھ پڑے رہے۔ اس لمحے میں شاید بریٹ لی بھی سوچ رہے ہونگے کے انہوں نے غلطی کردی۔ معلوم ایسے ہی ہورہا تھا کہ شاید چندرپال اب دوبارہ نا اُٹھ سکیں لیکن خوش قسمتی سے وہ کچھ دیر بعد ہوش میں آئے اور اپنے کھیل کو دوبارہ شروع کیا۔ یہ ہماری فہرست میں نوویں نمبر پہ آتا ہے۔

اس فہرست میں سب سے پہلے آٹھویں نمبر پہ انگلینڈ کے کھلاڑی جوفرا آرچر کا اسٹیو اسمتھ کیخلاف تازہ ترین بونسر آتا ہے جس میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اسٹیواسمتھ نےاس تیزرفتار بونسر سے بچنے کی بہت کوشش کی لیکن گیند انکی گردن پہ جا کے لگی۔ یہ ایک ایسا نازک لمحہ تھا جب گراؤنڈ میں موجود تقریباً ہرکوئی ساکت رہ گیا کیونکہ اسمتھ گیند لگنے کے فوراً بعد منہ کے بل زمین پہ گرگئے۔

ساتویں نمبر پہ پاکستان کے وسیم اکرم موجود ہیں جو اپنی جوانی میں انتہائی تیزرفتار بونسرز مارنے کیلئے مشہور تھے۔1985 میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ایک میچ کے دوران وسیم اکرم کایہ بونسر کرکٹ میں یادگار بونسرز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ کیویز کو جیت کیلئے 60 رنز کی ضرورت تھی، وکٹ اس قدر فلیٹ تھی کہ کیوی کھلاڑی نے ہیلمٹ لینا مناسب نا سمجھا لیکن جب وسیم اکرم کا بونسر آیا تو کیوی بلے باز کے پاس پیچھے ہٹنے کا بھی موقع نا تھا۔ خوش قسمتی سے کوئی شدید نقصان نا ہوا لیکن اسکے بعد وہ اس میچ دوبارہ نہیں کھیل سکے اور انہیں hospital منتقل کرنا پڑا۔

اس فہرست میں چھٹے نمبر پہ موجود لاستھ ملنگا کا ایک ایسا خطرناک بونسر آتا ہے جس میں ڈومیسٹک کرکٹ کے ایک میچ کے دوران ساؤتھ افریقہ کے بلے باز رلی روسو انہیں ایک پل شاٹ کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن گیند کی رفتار انکی سوچ سے بھی زیادہ نکلتی ہے۔ گیند سیدھی انکے ہیلمٹ پہ لگتی ہے اور فوراً زمین پہ لیٹ جاتے ہیں۔ آپ اس ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں کہ روسو تقریباً مدہوش ہیں اور انکی آنکھ کے قریب سے خون بھی بہہ رہا ہے۔

یوں تو جیمز اینڈرسن ایک سوئنگ بولر کے طور پہ جانے جاتے ہیں لیکن ہماری فہرست میں پانچویں نمبر پہ موجود اس ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جیمز اینڈرسن کا یہ بونسر نیوزی لینڈ کے کھلاڑی کیلئے توقع سے زیادہ ہی تیز تھا۔ کیوی کھلاڑی ڈینئیل فلن نے اس تیز رفتار بونسر کوپُل کرنے کی ناکام کوشش کی اور اس کوشش کے دوران وہ اپنے دانتوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ بونسر اس قدر خطرناک تھا کہ ہیلمٹ کی جالی ہونے کے باوجود بھی بلے باز کے دانت توڑنے میں کامیاب رہا۔

ویسے تو انڈین بولرز کو فاسٹ بولرز میں شمار نہیں کیا جاتا لیکن اسکے باوجود عرفان پٹھان کا یہ بونسر زمبابے کے کھلاڑی ٹریوس فرینڈ کیلئے خطرناک ثابت ہوا۔ فیرینڈ نے پل کرنے کی کوشش کی۔ گیند انکے بلے کا باہری کنارہ لیتی ہوئے انکے ہیلمٹ کی جالی میں موجود خالی جگہ میں جا لگی۔ چوٹ اس قدر شدید تھی کہ وہ کچھ لمحے تک اپنے خوش و حواس میں ہی نا آسکے۔ فرینڈ کو گراؤنڈ سے باہر لیجایا گیا اور پھر وہ میچ میں دوبارہ نا کھیل سکے۔

انور علی پاکستان کے ایک میڈیم پیسر آل راؤنڈر ہیں جنکی رفتار کر دیکھ کر اندازہ نہیں کیا جاسکتا کہ انکا بونسر اس قدر خطرناک ثابت ہوگا۔ لیکن نیوزی لینڈ کیخلاف ایک میچ کے دوران انور علی کا سلو بال پہ پھینکا گیا ایک سلو بونسر اس قدر خطرناک ثابت ہوا کہ بلے باز کو ناصرف گراؤنڈ سے باہر جانا پڑا بلکہ وہ اگلے کئی میچوں تک نیوزی لینڈ کی نمائندگی نا کرسکے۔ اور بونسر کے بعد کی انکی تصویر کافی عرصے تک انٹرنیٹ پہ وائرل بھی رہی۔ یہ ہماری فہرست میں تیسرے نمبر پہ آتا ہے۔

شعیب اختر وہ واحد بولر ہے جس نے اپنے وقت کے تقریباً تمام بڑے کھلاڑیوں کے ہیلمٹس پہ اپنی تیزرفتار گیند کے نشان چھوڑے ہیں۔ دوسرے نمبر پہ ہمارے پاس شعیب اختر کے دو انتہائی خطرناک بونسرز موجود ہیں جن میں سے ایک برائن لارا کے خلاف تھا جس کی رفتار 92 میل سے زیادہ تھی اور گیند سیدھی انکی گردن پہ لگی۔ جس کے بارے میں لارا خود بھی کہتے ہیں کہ میں خوش قسمت تھا جو بچ گیا۔

دوسرا گیری کرسٹ کیخلاف وہ بونسر تھا جسکے بعد کرسٹ کبھی بھی اختر کیخلاف اعتماد سے نا کھیل سکے۔ ساؤتھ افریقہ کیخلاف اس میچ میں کرسٹن پاکستان کیلئے درد سر بن چکے تھے لیکن اختر کے اس بونسر نے کرسٹن کے اعتماد کو کافی ٹھیس پہنچائی۔ آپ ویڈیو میں کرسٹن کے خون بہنے کی رفتار سے ہی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ یہ بونسر کس قدر خطرناک تھا۔

پہلے نمبر پہ جس بونسر کا ذکر کرنے جارہے ہیں اس سے تقریباً ساری دُنیا واقف ہے کیونکہ اسکی وجہ سے آسٹریلیا کے ایک نوجوان بلے باز فل ہیوجز کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا۔ یہ بونسر دراصل ہوجز کی گردن پہ لگا جس نے انکے مہرے کو توڑ دیا اور hospital میں جان کی بازی ہارگئے۔ اس بونسر کے بعد ہی آئی سی سی نے بولرز پہ غیرضروری بونسرز مارنے کی پابندی کو مزید سخت کردیا تھا۔

دوستو ہوجز کے بونسرکے علاوہ کونسا ایسا بونسر تھا جو آپکے خیال میں بہت زیادہ خطرناک تھا۔

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *