محمدحسنین کی دکھ بھری کہانی – کرکٹر کیسے بنے

اس کرکٹ میں کچھ نہیں رکھا۔ اتنی چُھٹیاں نہیں کیا کرو۔ یہ وہ جملہ تھا جو محمدحسنین کے سکول کے پرنسپل ان سے اکثر کہا کرتے تھے۔ یہ کہانی ہے اُسی محمد حسنین کی جو کہ اب انہی پرنسپل سمیت اپنے والدین اور پورے پاکستان کا فخر بنے ہوئے ہیں۔

پاکستان کو ہمیشہ سے ہی فاسٹ بولرز کی جنت کہا جاتا رہا ہے اور کوئی ایک دور بھی ایسا نہیں رہا جب پاکستان کے پاس فاسٹ بولرز کی کھیپ موجود نا رہی ہو۔عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس شعیب اختر جیسے بولر ہمیشہ سے دُنیائے کرکٹ کے کھلاڑیوں کیلئے دہشت تھے۔

اور اب پاکستان کرکٹ کے اُفق پہ ابھرنے والا وہ نوجوان جس پہ تقریباً ہر ایک نظریں جمی ہوئی ہیں وہ ہے محمد حسنین۔ حیدرآباد کے ایک پسماندہ علاقے کالی مورے سے تعلق رکھنے والے محمد حسنین نے بھی بہت سارے پاکستانی بچوں کی طرح اپنی کرکٹ کا آغاز گلی کرکٹ سے کیا۔

جہاں حسنین کرکٹ کے شوقین تھے وہیں انکے والد کی بھی یہی خواہش تھی کہ انکا کوئی نا کوئی بیٹا کرکٹر ضرور بنے لیکن حسنین کے علاوہ کسی بھائی کو بھی کرکٹ میں دلچسپی نا تھی۔ حسنین کے والد کو کچھ مایوسی ضرور ہوئی لیکن جب حسنین کے والد کو لوگوں نے حسنین کے ٹیلنٹ اور رفتار بارے آگاہ کیا تو انہوں نے نوجوان بیٹے کو سندھ کرکٹ اکیڈمی حیدرآباد میں بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

کوچ اقبال ملک کی بہترین کوچنگ اور حسنین کے ٹیلنٹ نے حسنین کیلئے انڈر سکسٹین کے دروازے کھول دئیے اور حسنین نے اپنے ہی ٹرائلز میں حیدرآباد کے کوچ اور سلیکٹرز کو بہت متاثر کیا۔ یوں حسنین انڈر سکسٹین کا حصہ بنے اور اپنی پروفیشنل کرکٹ کا باقاعدہ آغاز کردیا۔ انڈر سکسٹین میں عمدہ کارکردگی اور تیزرفتار گیندوں نے پاکستان انڈر نائنٹین کے کوچ اور سلیکٹر کی نظریں حسنین پہ جما دیں اور یوں وہ انڈر سکسٹین کا حصہ بنے اور پاکستان کی ایشیا کپ میں نمائندگی کی۔

حسنین کی رفتارکی دھومیں پہلے ہی ہرجگہ پہنچ چُکی تھیں اور پھر کوچ اقبال ملک کی بہترین کوچنک کی بدولت حسنین کیلئے فرسٹ کلاس کرکٹ کے دروازے بھی کھول دئیے گئے۔ حسنین کو پاکستان ٹیلی ویژن کی طرف سے قاعداعظم ٹرافی میں کھیلنے کا موقع دیا گیا۔

دوہزار سترہ  میں جب محمد حسنین کی عمر صرف سولہ سال تھی وقار یونس کی نظر ان پہ پڑی اور یوں انہوں نے اسلام آباد یونائیٹڈ کیلئے حسنین کو چُن لیا لیکن بدقسمتی سے حسنین انجری کا شکار ہوئے اور پی ایس ایل  کا حصہ بنا سکے۔

دو ہزار انیس میں حسنین کو پی ایس ایل فور کے ڈرافٹ میں شامل نا کیا گیا لیکن اس وقت تک حسنین کی قسمت انکا ساتھ دے چُکی تھی۔ کوئٹہ گلیڈئیٹرز کے سترہ سالہ پیسر نسیم شاہ جو کہ خود بھی ایک بہت تیزرفتار بولر قرار دئیے جاتے ہیں انجری کا شکار ہوگئے۔ اور اس دوران حسنین نے کراچی پریمئیر لیگ میں کوئٹہ گلیڈئیٹرز کے مینیجر اعظم خان اور کوچ معین خان دونوں کو اپنی پرفارمنس سے اپنا گرویدہ بنا لیا۔

پی ایس ایل فور میں شامل ہونا حسنین کیلئے ایک خواب کی مانند تھا لیکن وہ جانتے تھے کہ یہی وہ ایک موقع ہے جو انکے لیے پاکستان کرکٹ تیم کے دروازے کھول سکتا ہے اور پھر وہ لمحہ آہی گیا جب انہوں نے پی ایس ایل فور میں اپنی گیند پھینکی جو سپیڈ گن پے ایک سو اکتالیس کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی زائد نکل گئی۔ اُس وقت رمیز راجہ کمنٹری باکس میں موجود تھے انہوں نے فوراً ہی کہا: یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں۔

مزید پڑھیں: بہت جلد کرکٹ کے تمام فارمیٹ کا کپتان ایک ہی ہو گا – نام بتا دیا گیا

اور پھر ہر گُزرتے میچ کے ساتھ حسنین سیلیکٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرتے گئے اور آخر کار انہیں آسٹریلیا کیخلاف ون ڈے سیزیر کیلئے ٹیم میں شامل کرلیا گیا۔ آسٹریلیا کیخلاف پہلی دفعہ انٹرنیشنل دُنیا کے سامنے آنے والے حسنین کے بارے میں ماہرین نے فوراً ہی انہیں دُنیائے کرکٹ کے تیز ترین بولروں میں شامل کرنا شروع کردیا۔

اس وقت محمد حسنین ایک سو پینتالیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے باآسانی گیند کروارہے ہیں اور وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی بولنگ کا ایک اہم رکن ہیں

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *