کھلاڑیوں کی شرٹ پر موجود نمبر کا مطلب کیا ہوتا ہے

دوستو آپ نے کھلاڑیوں کی شرٹس پہ نام کے ساتھ نمبر بھی لکھے دیکھے ہونگے۔ یہ نمبر کھلاڑیوں کو کون الاٹ کرتا ہے اور اسکا مطلب کیا ہوتا ہے۔

کرکٹ کا آغاز ٹیسٹ میچز سے ہوا اور اس وقت نا تو کوئی خاص قوانین تھے نا ہی کوئی خاص ضابطے۔ کھلاڑی سفید رنگ کی کٹ پہنتے تھے جن پہ نا تو نام لکھے ہوتے تھے نا ہی نمبرز اور یہ کرکٹ میں تقریبا ایک صدی تک ایسے ہی رہا لیکن پھر شرٹس پہ نمبرز بھی آگئے اور نام بھی۔

ٹیسٹ کرکٹ کے آغاز پہ نا تو شرٹ پہ نام لکھا ہوتا تھا نا ہی نمبر۔ لیکن پھر کرکٹ میں نام کے ساتھ ساتھ نمبرز کا رواج بھی عام ہوگیا اور ہر کھلاڑی کی شرٹ پہ کوئی نا کوئی نمبر دیکھا جانے لگا۔ اور کرکٹ میں بہت سارے ایسے کھلاڑی بھی گُزرے ہیں جن کی کرکٹ کے ساتھ ساتھ انکا نمبر بھی بہت مشہور تھا جیسا کہ 10 نمبر شاہد آفریدی اور سچن ٹنڈولکر کی وجہ سے بہت زیادہ مشہور تھا۔ افریقہ کے کھلاڑی ہرشل گبز دو صفر کی شرٹ پہنا کرتے تھے۔ رکی پونٹنگ ہمیشہ 14 نمبر کی شرٹ پہنتے تھے اور اب دھونی ہمیشہ 7 نمبر کی شرٹ میں نظر آتے ہیں۔

سب سے پہلے ہم یہ دیکھیں گے کہ ان نمبر کا آغاز کب سے ہوا۔شرٹس پہ نمبر سب سے پہلے 1996 میں دیکھنے کو ملے جب ایک سیریز کے دوران آسٹریلیا نے اپنے کھلاڑیوں کی شرٹس پہ مختلف نمبرز پرنٹ کیے۔ مختلف کھلاڑیوں کی شرٹس پہ مختلف نمبرز پرنٹس تھے اور ان میں کوئی ترتیب نہیں تھی۔ اس وقت کسی کو معلوم نہیں تھا کہ ان نمبرز کا مطلب کیا ہے اور نا ہی آئی  سی سی نے ان پہ کوئی اعتراض کیا۔ اسکے بعد بہت ساری ٹیموں نے بھی اسی طرز عمل کو اپنایا اور مختلف کھلاڑیوں کی شرٹس کے پیچھے نمبرز لکھے جانے لگے۔ آفیشلی طور پہ شرٹس پہ نمبرز کا آغاز آئی سی سی نے ۱۹۹۹ کے ورلڈ کپ میں کیا جس میں تمام کھلاڑیوں کی شرٹس کے پیچھے نمبرز ترتیب سے لکھے گئے تھے۔

یعنی کپتان کی شرٹ پہ 1، نائب کپتان کی شرٹ پہ 2 اور پھر باقی کے نمبر سینئیراٹی کی بنیاد پہ لکھے گئے۔ یعنی جو جتنا سینئیر اسے اتنا چھوٹا نمبر دیا گیا۔ بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ نمبر آئی سی سی کی جانب سے الاٹ کیے جاتے ہیں یا پھر ٹیم میں کوچ یا مینیجر یہ نمبر دیتے ہیں لیکن ایسا بالکل نہیں ہے۔آئی سی سی نے ہرٹیم کو اجازت دی ہوئی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے نمبرز الاٹ کرسکتے ہیں۔ ٹیمز نے یہ اختیار اپنے پاس رکھنے کی بجائے کھلاڑیون کو دیدیا کہ وہ اپنی مرضی سے نمبر کا انتخاب کریں۔ اگر تو وہ نمبر ٹیم میں کسی اور کھلاڑی کے پاس نہیں ہے تو وہ مطلوبہ کھلاڑی کو الاٹ کردیا جاتا ہے۔

اب کھلاری اپنی مرضی سے نمبر کا انتخاب کرتا ہے۔ اسکے پیچھے کھلاڑی کی کیا سوچ ہوتی ہے وہ صرف کھلاڑی ہی کو پتا ہوتا ہے لیکن پاکستان کی جانب سے عمر اکمل اور بہت سارے کھلاڑی اپنی شرٹ کا نمبر اپنے پیر کے کہنے پہ چُنتے ہیں۔ جیسا کہ حال ہی میں عمر اکمل نے خراب کارکردگی کی وجہ سے اپنا نمبر 96 سے تبدیل کرکے 3 کیا لیکن اسکے باوجود وہ ٹیم میں جگہ نا بنا سکے تھے۔ اسکے علاوہ حارس سہیل نے بھی 2015 کے ورلڈ کپ میں اپنا نمبر تبدیل کروایا تھا۔ تو دوستو اس طرح نمبر الاٹ کرنا آئی سی سی کی ذمہ داری نہیں نا ہی بورڈ کی ہے بلکہ کوئی بھی کھلاڑی اپنی مرضی کا نمبر حاصل کرسکتا ہے لیکن شرط یہ کہ وہ نمبر پہلے کسی کے پاس موجود نا ہو۔ ہاں البتہ اگر وہ کھلاڑی ریٹائر ہوچکا ہے تو دوسرا کھلاڑی وہ نمبر حاصل کرنے کی درخواست کرسکتا ہے۔

You May Also Like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *