کرنا تواپنا فرض سمجھتے ہیں۔  لیکن بعد دفعہ کچھ اپیلز اس حد تک جذباتی ہوتی ہیں کہ بولرآپے سے ہی باہرہوجاتے ہیں۔
آج ہم آپکو ایسی ہی اپیلز کے بارے میں بتائے گے جن میں بولرز کی اپیلز ایسی تھیں کہ انہیں کرکٹ کی مزاحیہ ترین
اپیلز کہا جاتا ہے۔
نمبر:5
پانچویں نمبر پہ موجود ساؤتھ افریقہ کے کھلاڑی تبریز شمسی کی اس اپیل کو دیکھ کر آپ ہنسنے پہ مجبور ہوجائینگے۔ شمسی اپیل کرتے ہوئے پہلے جذباتی ہوتی ہیں، پھر بچوں کی طرح وکٹ پہ اچھلنا شروع کردیتےہیں اور پھر آخر میں زمین پہ بیٹھ کے تقریباً التجا کرنے کے انداز میں اپیل کرنا شروع کردیتے ہیں۔  یہاں تک ہی نہیں بلکہ وہ پھر وکٹ سے اُٹھتے ہیں اور ایمپائر کی طرف دیکھ کر ایسا اشارہ کرتے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں “بھائی کیا کررہے ہو۔ آؤٹ دو۔ یار ایسے نا کرو۔ “
نمبر:4
چوتھے نمبر پہ موجود سری سانتھ کی یہ اپیل آپکے چہرے پہ ایک مسکراہٹ ضرور لائے گی۔2007 ورلڈ کپ کے دوران
اس اپیل میں آپ دیکھ رہے ہیں کہ سری سانتھ کچھ ایسے اپیل کررہے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں “آؤٹ دیدے۔
آؤٹ دیدے اوئے تیری مہربانی آؤٹ دیدے” یہاں تک کہ کمنٹیٹر بھی مذاق اُڑانا شروع کردیا ہے۔

 

نمبر:3
تیسرے نمبر پہ بنگلہ دیش کے شکیب الحسن کی یہ ایک ایسی اپیل ہے جس میں شکیب الحسن تقریباً گھٹنوں کے بل بیٹھ کر
ایمپائر سے آؤٹ مانگ رہے ہیں۔
نمبر:2
سری سانتھ اپنی الٹی سیدھی حرکتوں کو بدتمیزیوں کی وجہ سے کافی مشہور تھے لیکن انکی یہ اپیل آپکو ہنسنے پہ مجبور کردیگی۔
آپکو ایسے ہی لگے گا جیسے وہ ایمپائر سے بھیک مانگ رہے ہوں۔  کیلس کے پیڈز پہ گیند لگنے کے بعد سری سانتھ کچھ یہ
اپیل بہت زیادہ مشہور ہے۔
نمبر:1
پہلے نمبر پہ ایک دفعہ ساؤتھ افریقہ کے تبریز شمسی کی اپیل آتی ہے جو انہوں نے سی پی ایل کے ایک میچ کے دوران کی
تھی۔ یہ اپیل اس قدر لمبی اور فنی تھی کہ اکثر کھلاڑی بھی مسکرانا شروع ہوگئے۔  شمسی نے اپیل میں جذباتی انداز میں
شروع کیا، پھر ایمپائر کی جانب دیکھا لیکن انہوں نے realise کیا کہ ایمپائر آؤٹ دینے کے mood میں نہیں۔
انہوں نے اپیل مزید اونچی کی اور کرتے کرتے Square Leg کی جانب نکل گئے۔ لیکن وہاں پہنچ کے بھی کہہ رہے ہیں
کہ بھائی آؤٹ تھا، یہاں لگی تھی گیند۔ دیکھ تو صیحیح۔